.

پاک فوج کا رضا کارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے اور موجودہ الاؤنسز میں کٹوتی کرکے رقم قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی بہتری پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ملکی معیشت کی بہتری کے لیے پاک فوج نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پاک فوج اس بار نے رضا کارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے اور موجودہ الاؤنسز میں کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فوج نے راشن، سفری الاؤنس، انتظامی اخراجات میں کمی اور دفاعی ترقیاتی اخراجات موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان اقدامات کے نتیجے میں بچ جانے والی رقم کو قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے گا۔

ادھر وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ افواج پاکستان نے رضا کارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ حقیقی قومی ادارے کی حب الوطنی کی عکاسی اور احسن اقدام ہے۔

ہماری قومی سلامتی کو درپیش گوناں گوں چیلنجز کے باوجود افوجِ پاکستان کا آئندہ مالی سال کے دفاعی اخراجات میں رضاکارانہ کمی کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے کئی سیکورٹی چیلنجز کے باوجود دفاعی اخراجات میں کٹوتی کی، دفاعی اخراجات میں کٹوتی ہماری ملک کی نازک مالی صورتحال کی وجہ سے کی، میں افواج پاکستان کے اس بے مثال رضا کارانہ اقدام کو سراہتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت اس رقم کو ضم شدہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی ترقی پر خرچ کرے گی۔