.

پاکستان اور قطر کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے تین سمجھوتوں پر دست خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلو وں اور انھیں مزید فروغ دینے کے طریقوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق دونوں رہ نماؤں میں ملاقات کے بعد پاکستان اور قطر کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے حکام نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے سے متعلق مفاہمت کی تین یادداشتوں پر دست خط کیے ہیں۔

ان میں ایک سمجھوتے کے تحت پاکستان اور قطر تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے۔دونوں ملکوں کے حکام نے سیاحت اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے مفاہمت کی ایک اور یاد داشت پر دست خط کیے ہیں۔

مفاہمت کی تیسری یاد داشت کے تحت دونوں ممالک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم کی روک تھام کی غرض سے ایک دوسرے سے مالیات سے متعلق سراغرسانی کا تبادلہ کریں گے۔

امیر قطر ہفتے کے روز پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر پہنچے ہیں ۔ان کا طیارہ راول پنڈی میں نور خان ائیربیس پر اترا جہاں وزیراعظم عمران خان نے بہ نفس نفیس ان کا اور ان کے وفد کا والہانہ پُرتپاک خیرمقدم کیا اور ان کی گاڑی خود چلا کر وزیراعظم ہاؤس تک لائے۔وہاں امیرِ قطر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی ہے اور تینوں مسلح افواج کے ایک چاق چوبند دستے نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

شیخ تمیم کے ہمراہ ا علیٰ سطح کا ایک وفد پاکستان آیا ہے۔ان میں قطر کے اہم وزراء اور سینیر عہدے دار شامل ہیں۔وہ چار سال کے وقفے کے بعد پاکستان کا یہ دورہ کررہے ہیں۔اس سے قبل انھوں نے 2015ء میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

ان کی آمد سے قبل وزیراعظم عمران خان نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ امیرِ قطر پاکستان میں قریباً 22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے۔اگر عملاً ایسا ہوتا ہے تو سرمایہ کاری کا یہ حجم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اس سال کےا وائل میں پاکستان میں اعلان کردہ سرمایہ کاری کی مالیت سے زیادہ ہوگا۔خود وزیراعظم عمران خان نے جنوری میں قطر کا دورہ کیا تھا اور شیخ تمیم کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔