.

دستور پاکستان کے مخالف صوفی محمد انتقال کر گئے، تدفین آبائی علاقے میں کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے بانی صوفی محمد 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے بیٹے فضل اللہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا صوفی محمد جمعرات کی صبح چل بسے ہیں۔ صوفی محمد کی تدفین جمعرات کی صبح ان کے آبائی علاقے کے قبرستان میں کر دی گئی۔

مولانا صوفی محمد کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق امیر ملا فضل اللہ کے سسر تھے جو گزشتہ سال افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مولانا صوفی محمد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں 2009 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، جنوری 2018ء میں پشاور ہائی کورٹ نے خرابی صحت کی بنا پر ان کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

رہائی کے بعد مولانا صوفی محمد کچھ عرصہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بھی زیرِ علاج رہے۔ ان کا انتقال بدھ کی شب لوئر دیر کے علاقے میدان میں واقع اپنی رہائش گاہ میں ہوا۔

صوفی محمد 1933 میں خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے علاقہ میدان میں پیدا ہوئے اور دینی تعلیم صوابی کے علاقہ پنج پیر میں واقع دینی مدرسہ سے حاصل کی اور فراغت کے بعد جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی مگر جلد ہی جماعت اسلامی کے فلسفہ جمہوری جدوجہد سے اختلاف کے باعث 1992 میں راہیں جدا کرکے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کی بنیاد رکھی۔

صوفی محمد اور اس کی تحریک کو ملاکنڈ ڈویژن کے بالائی اضلاع میں کافی پذیرائی ملی اور انہوں نے ریاست کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کردیں۔ اس دوران متعدد مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں کارکنان اور سیکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

نائن الیون کے بعد امریکا نے جب اسامہ بن لادن کی تلاش میں افغانستان پر یلغار کردی تو صوفی محمد نے اپنے کارکنان کے ہمراہ افغانستان کا رخ کیا اور طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے لگے۔ صوفی محمد کے ساتھ افغانستان جانے والے اکثر کارکنان آج تک لاپتا ہیں۔ ان کے اہل خانہ کو آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ مارے گئے ہیں یا زندہ ہیں۔

افغانستان سے واپسی پر صوفی محمد جیل جاتے آتے رہے مگر اس دوران ان کے داماد ملا فضل اللہ نے تحریک کی باگ ڈور سنبھالی اور جیل میں ان سے ملاقاتوں کے دوران حکمت عملی پر مشاورت کرتے رہے۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں صوفی محمد نے جیل کے اندر لکھی کتاب کا مسودہ ملا فضل اللہ کو اشاعت کے لیے دیا مگر دوران راہزنوں نے ملا فضل اللہ کو نشہ آور چیزیں کھلا کر ان سے رقم سمیت وہ مسودہ بھی بھی چھین لیا اور ملا فضل اللہ کو ویرانے میں پھینک دیا جہاں راہگیروں نے ان کو اٹھا کر اسپتال منتقل کیا۔

ملا فضل اللہ امام ڈھیری کی ایک مسجد میں پیش امام تھے جہاں وہ لاؤڈ اسپیکر پر درس دیا کرتے تھے مگر جلد ہی انہوں نے اپنا ایف ایم چینل لانچ کیا اور ان کا پیغام امام ڈھیری سے نکل کر سوات کے بیشتر علاقوں میں پھیلتا چلا گیا اور 2008 کے اوائل میں سوات کے اندر ریاست کا کردار بالکل ختم اور ملا فضل اللہ کی رٹ قائم ہو گئی۔