.

’طریق مکہ‘:پاکستانی عازمینِ حج کی سفری سہولت کے لیے سعودی عرب کا انقلابی اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اس موسمِ حج میں’طریق مکہ ‘ پروگرام میں پاکستان کو بھی شامل کیا ہے۔ اس کا مقصد عازمین حج کو ہر طرح کی سفری سہولتیں مہیا کرنا اور انھیں ان کے قیمتی وقت کے ضیاع کے بغیر ان کی منزل مقصود مدینہ منورہ یا جدہ پہنچانا ہے۔ طریق مکہ پروگرام کا یہ دوسرا سال ہے اور پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن کے مراحل ان کے اپنے ہوائی اڈوں ہی پر کسی اضافی وقت کے بغیر مکمل کیے جا رہے ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد کے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے حجازِ مقدس فریضہ حج کی ادائی کے لیے جانے والے پاکستانی شہری’ طریق مکہ‘ سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اس کے تحت ان کے اپنے ملک سے خروج اور سعودی عرب میں دخول کے تمام مراحل اسی ہوائی اڈے پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی وزارت برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے عازمینِ حج کی تربیت کے دوران میں اور انھیں ان کے پاسپورٹس، ٹکٹ اور دوسرے سفری لوازمات لوٹاتے وقت رہ نما ہدایات دی تھیں۔ انھیں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی پرواز کے مقررہ وقت سے ساڑھے پانچ یا چھے گھنٹے پہلے ہوائی اڈے پر پہنچ جائیں تاکہ انھیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسلام آباد سے سعودی ائیر لائنز، پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز اور نجی فضائی کمپنی ائیر بلو کی خصوصی حج پروازوں کے ذریعے حجاج کرام کو مدینہ منورہ یا جدہ منتقل جا رہا ہے۔ سب سے پہلے متعلقہ فضائی کمپنی کے کاؤنٹر سے عازمین کو بورڈنگ پاس جاری کیے جاتے ہیں۔ان کے سامان کے بیگ یا صندوقچے پلاسٹک کی شیٹس میں مکمل کور کرنے کے بعد بُک کیے جاتے ہیں۔اس طرح باری باری بورڈنگ پاسوں کے اجرا کا کام مختصر وقت میں مکمل ہوجاتا ہے۔

طریق مکہ کے تحت عازمین حج کو اسلام آباد ہی میں جدہ یا مدینہ منورہ سے واپسی کے بھی بورڈنگ پاس جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان کی وزارت داخلہ کا امیگریشن کا عملہ پاسپورٹس کی جانچ پڑتال کے بعد مہر لگاتا ہے، ہر حاجی کی تصویر لی جاتی ہے اوردستی سامان دیکھا جاتا اور اس کو سیکنرز سے گزارا جاتا ہے۔

فضائی کمپنیوں کی ہدایات کے مطابق عازمین حج کے ہاتھ میں پکڑے جانے والے تھیلوں یا دستی بستوں میں کھانے پینے یا مائع شکل میں کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔ خاص طور پر سعودی ائیر لائنز سے سفر کرنے والے عازمین حج کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔اگر کسی کے سامان میں کوئی ممنوعہ چیز پائی جائے تو اس کو نکال دیا جاتا ہے یا نکال دیا جائے گا۔ اسی طرح کوئی چھری، کانٹا اور قینچی چاقو بھی نہیں ہونا چاہیے۔

وزارتِ داخلہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا عملہ بڑے مستعدی سے عازمین کے سفری کاغذات کی جانچ پڑتال کرتا ہے،ان کی جامہ تلاشی لیتا ہے اورعازم حج کے سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں متعلقہ محکمے کا اجازت نامہ طلب کیا جاتا ہے۔

اس مرحلے کی تکمیل کے بعد قطار کی شکل میں عازمینِ حج کو سعودی امیگریشن کے کاؤنٹروں پر لے جایا جاتا ہے۔ان کے یہ دس کاؤنٹر ہوائی اڈے پربیرون ملک روانگی کے مقام ہی پربنائے گئے ہیں۔

’طریق مکہ‘ کے کاؤنٹر

سعودی عملہ عازمین حج سے وزارت حج کا جاری کردہ پولیو کے قطرے پینے اور گردن توڑ بخار کے ٹیکے لگوانے کا پیلا کارڈ طلب کرتا ہے۔وہیں قطار میں ایک مرتبہ پھر پاکستانی عازمین کو پولیو کو قطرے پلائے جاتے ہیں اوران کے اس کارڈ پر مہر لگا دی جاتی ہے۔پھر عازمین کو باری باری کسی ایک کاؤنٹر پر بھیجا جاتا ہے۔

سعودی امیگریشن کے اہلکار ٹوٹی پھوٹی اردو میں مگر بڑی خوش خلقی سے مخاطب ہوتے ہیں لیکن ساتھ وضاحت کے لیے پاکستانی عملہ بھی موجود ہے۔عازمین کے انگلیوں کے نشان لیے جاتے ہیں اور تصاویر بنائی جاتی ہیں۔مکمل جانچ پرکھ کے بعد پاسپورٹس پر دخول کی مہر لگا دی جاتی ہے اور پھر پرواز پر بیٹھنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

اس تمام عمل میں صرف دس سے پندرہ منٹ صرف ہوتے ہیں۔ البتہ جب بعض عجلت پسند طبائع ہدایات کو نظر انداز کردیتے ہیں اور جہاں کہیں من مانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اپنے وقت کے ساتھ دوسروں کے وقت کے ضیاع کا بھی سبب بنتے ہیں۔

’طریق مکہ‘ کے تحت قائم کاؤنٹرز پر تعینات سعودی عملہ بڑی خوش اخلاقی پیش آتا ہے،عازمین کو خوش آمدید کہتا ہے اور وہ عازمین کے وقت کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔طیارے پر سوار ہونے سے قبل ایک مرتبہ پھر عازمینِ حج کے دستی سامان کو دیکھا جاتا ہے۔مسافروں کی دو قطاریں لگائی جاتی ہیں اور جن کے پاس کوئی دستی بیگ نہیں ہوتا اور بالکل خالی ہاتھ ہوتے ہیں،انھیں سیدھا طیارے میں بھیج دیا جاتا ہے۔

سعودی عملہ عازمین حج کو پہلے ہی کہہ دیتا ہےکہ اپنے دستی بستوں کو کھول کر رکھیں تاکہ وہ انھیں تیزی سے دیکھ کر مسافروں کو سوار ہونے کے لیے طیارے میں بھیجتے رہیں۔طیارے کے عملہ ان کی نشستوں کی رہ نمائی کرتا ہے۔

اس کے باوجود بعض مسافروں اپنے ٹکٹ کے مطابق نشست پر نہیں بیٹھتے۔وہ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ نشستیں نہ ہونے کے باوجود بیٹھ جاتے ہیں اور اس نشست حامل مسافر کے آنے کے باوجود وہاں سے نہیں اٹھتے جس سے وہ دوسروں کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں حالانکہ وزارتِ برائے مذہبی امور نے تربیت کے دوران میں یہ بالخصوص ہدایت کی تھی کہ سب حجاج اپنی اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں اور کسی دوسرے کی نشست پر بیٹھنے سے گریز کریں تاکہ انھیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مدینہ منورہ یا جدہ میں آمد

اسلام آباد سے روانہ ہونے والی خصوصی حج پروازیں جدہ اور مدینہ منورہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بروقت پہنچ رہی ہے۔مدینہ منورہ میں جدید سہولتوں سے مزین محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حج پروازاتر رہی ہیں۔ عازمین حج کو’طریق مکہ‘ پروگرام کے لیے مختص الگ ٹرمینل سے بسوں تک لایا جاتا ہے اور وہاں ان سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی ہے۔ہر پرواز کی ہوائی اڈے پر آمد سے قبل ہی طریق مکہ کی مخصوص بسیں وہاں کھڑی ہوتی ہیں۔ان پر’طریق مکہ ( مکہ روٹ) کے الفاظ نمایاں انداز میں لکھے ہوئے ہیں۔

جدہ یا مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں سے طیارے سے اترنے والے عازمین حج کو سیدھا ان میں سوار کیا جاتا ہے۔بسوں ہی میں پاکستان کی وزارت مذہبی امور کی جانب سے حجاج کرام کی ضیافت کا اہتمام کیا جارہا ہے اور انھیں کھانے کی اشیاء اور آب زم زم کی بوتلیں تقسیم کی جاتی ہیں۔

یہ بسیں ان حجاج کو لے کر سیدھی ان کے ہوٹل پہنچا دیتی ہیں۔ ہوائی اڈے سے متعلقہ ہوٹل تک یہ فاصلہ دس سے پندرہ منٹ میں طے ہوجاتا ہے۔ہوائی اڈے پر عملہ کی ہدایات کو نظر انداز کرکے بعض پاکستانی حجاج وہیں طہارت خانوں میں جانا شروع ہوجاتے ہیں۔جس سے بعض بسیں تاخیرسے متعلقہ اقامتی عمارت یا ہوٹل کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔ہر بس میں حجاج کرام سے بسوں کا عملہ ہی پاسپورٹس وصول کرلیتا ہے اور وہ انھیں واپسی کے وقت لوٹائے جائیں گے۔

وزارت مذہبی امور اور حج نے اس مرتبہ مسجد النبوی الشریف سے چند منٹ کے فاصلے ہی پر حجاج کرام کے لیے ہوٹلوں کا بندوبست کررکھا ہے اور وہاں سے الحرم میں پیدل پہنچنے تک دس سے بارہ منٹ لگتے ہیں۔

صبر واستقامت کا امتحان

پاکستانی حجاج کے صبرواستقامت اور کردار کی مضبوطی کا اصل امتحان ہوٹل پہنچنے کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ہوٹل میں وزارت مذہبی امور کا عملہ ہی کمروں کی الاٹ منٹ کررہا ہے اور بالعموم ،چار ، پانچ اور سات یا آٹھ بستروں پر مشتمل کمرے ہیں۔اس لیے اس حساب سے حجاج کے گروپ بنائے جاتے ہیں اور ان کے وزارت کے جاری کردہ کارڈ عارضی طور پر جمع کرکے کمروں کی چابیاں دی جاتی ہیں۔

لیکن یہاں سدا کے عجلت پسند بعض پاکستانی اپناآپ دکھانے سے باز نہیں آتے۔وہ عملہ کو فرائض کی بجاآور سے روکنے کے علاوہ اپنی من مانی کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ایک ہوٹل میں کمروں کی الاٹ منٹ کے وقت ایسے افراد کی وجہ سے ہڑبونگ مچی ہوئی تھی اور ان کی خواہش تھی کہ انھیں سب سے پہلے کمرا مل جائے۔چناں چہ انھوں نے عملہ کی میز کے گرد جمگھٹا بنا رکھا تھا اوراس قدر شورتھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

ان لوگوں کی اس بدنظمی کی وجہ سے جوکام زیادہ سے زیادہ تیس چالیس منٹ میں ہوجانا چاہیے تھا، وہ گھنٹے ، ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت میں ہورہا تھا۔انھوں نے وزارت مذہبی امور اور حج کے اہل کاروں کو عملاً زچ کرکے رکھ دیا تھا اور وہ اس دھکم پیل میں بے بس دکھائی دے رہے تھے مگر وہ پھر بھی صبر وتحمل سے پیش آئے تھے۔

طریق مکہ کے تحت آنے والے عازمین کا سامان الگ سے مال بردارٹرک نما گاڑیوں کے ذریعے ہوٹلوں میں پہنچایا جارہا ہے۔یہ سامان عام طور پر مسافروں کی آمد کے کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد پہنچ رہا ہے۔ بعض صورتوں میں اس سے تھوڑی اور تاخیر ہوجاتی ہے مگر عجلت پسند طبائع اس کے باوجود بالاصرار یہ تقاضا کرنا شروع کردیتے ہیں کہ ان کا سامان کب پہنچے گا۔دو ایک عازمین نے عملہ سے باقاعدہ تلخ کلامی شروع کردی اورانھوں نے صرف ہاتھاپائی نہیں لیکن زبان سے تمام کام کر لیا۔

وزارت مذہبی امور ہر سال حجاج کرام کی حج پر روانہ ہونے سےقبل تربیت کا اہتمام کرتی ہے،مگر بعض تربیت یافتہ اور بعض غیر تربیت یافتہ عازمین حج اپنی پاکستان میں عادات کا حجاز مقدس میں اعادہ کرتے رہتے ہیں۔اس طرح وہ اپنے علاوہ دوسروں کی پریشانی کا بھی موجب بنتے ہیں۔

عام مشاہدے میں آیا ہے کہ ہوٹل میں قیام کے دوران میں بہت سے پاکستانی خواتین وحضرات اپنے حصے سے زیادہ کھانا طلب کرتے ہیں یا اپنے ساتھیوں کی عدم حاضری میں ان کے حصے کا بھی کھانا لے لیتے ہیں اور پھر بہت سا کھانا بچ جاتا ہے اور یوں یہ کھانا ضائع ہوجاتا ہے۔

ہوٹل کی انتظامیہ نے کھانے کے ہال میں بھی جگہ جگہ یہ عبارت آویزاں لگا رکھی ہے کہ وہ اپنی طلب کے مطابق کھانا لیں مگر عادت سے مجبور حضرات روٹی اور سالن اپنے حصے سے زیادہ لے لیتے ہیں، جب ان کی شکم سیری ہوجاتی ہے توپھر بچ جانے والا کھانا ایسے ہی ضائع ہوجاتا ہے۔انتظامیہ کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو منع تو نہیں کرتے لیکن ہر کسی کو اپنی اپنی ذمے داری کا خود احساس کرنا چاہیے۔