.

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایل این جی کرپشن کیس میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور رکن اسمبلی شاہد خاقان عباسی کو قومی احتساب بیورو(نیب) کی ایک بارہ رکنی ٹیم نے لاہور میں گرفتار کر لیا ہے۔ان کی گرفتاری اربوں روپے مالیت کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی)کے درآمدی ٹھیکے میں مبیّنہ بدعنوانیوں کے کیس میں عمل میں آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شاہد خاقان عباسی حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز( پی ایم ایل این) کے لیڈر احسن اقبال اور جماعت کی ترجمان مریم اورنگ زیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے لیے لاہورجا رہے تھے۔انھیں ٹھوکر نیاز بیگ انٹر چینج کے نزدیک نیب کی ٹیم نے گرفتار کر لیا۔انھوں نے ابتدا میں مزاحمت کی لیکن بعد میں خود کو حکام کے حوالے کردیا۔انھیں لاہور میں نیب کے حراستی مرکز میں منتقل کردیا گیا ہے۔

نیب راول پنڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسد جنجوعہ نے بتایا ہے کہ بیورو کے چئیرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے پی ایم ایل این کے ایک اور رہ نما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی گرفتاری کے وارنٹ پر بھی دست خط کردیے ہیں۔ان کی گرفتاری کے لیے نیب کی ایک پانچ رکنی ٹیم اسلام آباد روانہ کردی گئی ہے۔انھیں بھی ایل این جی کرپشن کیس میں نامزد کیا گیا ہے اور ان پر مائع قدرتی گیس کی فروخت کے متنازعہ ٹھیکے دینے کا الزام ہے۔

نیب نے آج جمعرات کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کواسلام آباد میں پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ان کے خلاف تحقیقات کرنے والی نیب کی ٹیم کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو 75 سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ بھیجا گیا تھا لیکن انھوں نے ان میں سے صرف 20 سوالوں کے جواب دیے ہیں۔

ان کے خلاف نیب کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے مطابق انھوں نے قومی احتساب آرڈی ننس (این اے او) مجریہ 1999ء کی شق نو(الف) کے تحت کرپشن کا ارتکاب کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انھیں جمعہ کو لاہور میں احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔احتساب عدالت کے جج چودھری امیر خان ان کے خلاف نیب کی سفری ریمانڈ کی درخواست کی سماعت کریں گے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’نیب کا ادارہ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں آلہ کار بنا ہوا ہے اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے‘‘۔

پی ایم ایل این کے رہ نماؤں احسن اقبال اور مریم نواز شریف نے بھی ایک اور سابق وزیراعظم کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرانے کے لیے گرفتار کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے اپریل میں شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل اور اس کیس میں ماخوذ پانچ اور افراد کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔ان پر36 ارب 96 کروڑ روپے مالیت کے مائع قدرتی گیس کی درآمدی ٹھیکے میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔