.

بن لادن کے خلاف کارروائی پاکستان کی معلومات کی روشنی میں کی گئی: عمران خان

پاکستان نے بن لادن کیس کے حوالے خاموشی توڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن کی تلاش، اسے پکڑے یا قتل کرنے کے لیے پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے امریکی'سی آئی اے' کو معلومات فراہم کی تھیں۔ ان معلومات کے بعد امریکا کے لیے بن لادن کے ٹھکانے کی نشاندہی میں آسانی ہوئی اور اسے ایک آپریشن میں قتل کردیا گیا۔

عمران خان نے دورہ امریکا کے دوران 'فاکس نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں امریکیوں کو بن لادن تک رسائی میں مدد ملی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌ نے کہا آپ 'سی آئی اے' سے پاکستان انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بات کریں جنہوں‌ نے بن لادن کی گرفتاری کے لیے ٹیلیفونک ڈیٹا فراہم کیا۔

خیال رہے کہ اب تک پاکستان بن لادن کے خلاف آپریشن میں امریکا کی معاونت سے انکار کرتا رہا ہے۔ امریکا کی اسپیشل فورس نے 2 مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں بن لادن کے مبینہ ٹھکانے پر حملہ کرکے القاعدہ سربراہ کو ہلاک کردیا تھا۔

پاکستان کےسابق انٹیلی جنس چیف جنرل ریٹائرڈ اسد درانی جو سنہ 1990ء سے1992ء کے دوران انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی'آئی ایس آئی' کے سربراہ رہے نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے بن لادن کے ممکنہ ٹھکانے کے بارے میں امریکا کو معلومات فراہم کی تھیں مگر دعویٰ‌ یہ کیا کہ اسلام آباد کو اس بارے میں کوئی علم نہیں کیونکہ بن لادن جیسے شخص کے معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون پاکستان کےلیے مشکل پیدا کردیتا اور پاکستانی حکومت مشکل میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔