.

قطر ایل این جی اسکینڈل: شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

عدالت کا نیب حکام کو انہیں دوبارہ 15 اگست کو تفتیش میں ہونے والی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے قطر ایل این جی اسکینڈل کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کے لئے توسیع کرتے ہوئے نیب حکام کو انہیں دوبارہ 15 اگست کو عدالت میں تفتیش میں ہونے والی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

نیب راولپنڈی حکام نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ شاہد خاقان عباسی سے مزید تفتیش کرنی ہے اس لئے ان کے جسمانی ریمانڈ میں میں توسیع کی جائے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں 15 اگست تک توسیع کر دی۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 15 اگست تک عید کی چھٹیاں ہیں تاہم احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ کوئی بات نہیں چھٹی کے دن سماعت کر لیں گے۔

دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا شاہد خاقان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ اپنا وکیل کر لیں جو جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر سکے۔ اس پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں اپنی وکالت خود کروں گا۔ میں خود اس وقت وزیر تھا ایل این جی کیس خود بہتر سمجھتا ہوں۔ میں نیب والوں کو بھی ایل این جی کیس سمجھائوں گا بس کچھ وقت چاہیئے۔ جبکہ سماعت کے موقع پر شاہد خاقان عباسی سے ان کے اہلخانہ نے ملاقات بھی کی۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال، انجنئیر خرم دستگیر خان، سردار مہتاب احمد خان عباسی، (ن) لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب، بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔