.

امریکی صدر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش پر قائم، بھارت معترض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش پر قائم ہیں۔

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندرمودی دونوں سے ملاقات کرچکے ہیں اور ان کے خیال میں دونوں ہی زبردست انسان ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'مجھے لگتا ہے دونوں ایک ساتھ اچھے تعلقات قائم کرسکتے ہیں'۔

امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت نے اب تک مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش قبول نہیں کی ہے، یہ بھارتی وزیر اعظم پر منحصر ہے جب کہ میں اس حوالے سے پاکستان سے بات کرچکا ہوں۔"

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان یہ دیرینہ مسئلہ حل کرنے کے لیے مدد کی جائے تو میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہوں گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے امریکا کا دورہ کیا جس میں انہوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر امریکی صدر نے عمران خان کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کی تھی جس پر وہ اب بھی برقرار ہیں لیکن بھارت کی جانب سے اس پیشکش کو اب تک قبول نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستانی ردعمل

پاکستانی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ سات لاکھ فوج کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان رائے میں بھارت آسانی سے نہیں مانے گا، بھارت اس حد تک گیا کہ اس نے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا بھارت کو کل بھی پیغام امن کا تھا، ہمارا آج بھی پیغام امن اور استحکام کا ہے، ہم کہتے ہیں آئیے مل بیٹھیں اور پر امن طریقہ سے ایک مسئلہ جو تیزی سے بگڑ رہا ہے اس کا حل تلاش کریں اور کشمیریوں کی تشویش کا ازالہ کریں۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ اب ذمہ داری بھارت کی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی پر ٹھہرتی ہے، کیا وہ اس مسئلہ پر سیاست کرنا چاہتے ہیں یا اس خطہ کی بہتری کے بارے میں ان کوئی وژن ہے کوئی خواب ہے یا کوئی تصور ہے۔

بھارت کا ایک بار پھر اعتراض

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو ایک بار پھر مسترد کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر مسئلہ کو کشمیر پاکستان اور بھارت کا معاملہ قرار دیا ہے اور اس حوالے سے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کردیا۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بنکاک میں آسیان اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی جس کا حوالہ دیتے ہوئے جے شنکر نے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا۔

بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نئی دلی کے ارادے سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کردیا ہے۔