.

پاکستانی پارلیمنٹ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو مسترد کردیا

پاکستان بھارت اور کشمیری اس تنازع کے تین فریق ہیں، تینوں فریقوں کی مشاورت سے اس کا پرامن حل نکلنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدام کو یکسر مکمل طورپر مسترد کردیا۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق370 اور35A کی تحلیل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دیدیا گیا اور واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر عالمی ضابطوں کی موجودگی میں کوئی ملک یکطرفہ طور پر متنازع حیثیت کو ختم نہیں کرسکتا۔ پاکستان بھارت اور کشمیری اس تنازع کے تین فریق ہیں، تینوں فریقوں کی مشاورت سے اس کا پرامن حل نکلنا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جمہوری عمل کے ذریعے حق خودارادیت کے تحت کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔

پارلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ او آئی سی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔ پاکستان کے عوام کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بند کیا جائے۔ تمام رابطے بحال کیے جائیں، سرچ آپریشن ختم اور کشمیری رہنمائوں کو رہا کیا جائے۔ شہری آزادیوں کا احترام کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی سے جنوبی ایشیاء کا امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اضافی دستوں کی تعیناتی پر اظہار تشویش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، اقوام متحدہ خصوصی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائے۔ مقبوضہ کشمیر سے تمام بھارتی سیاہ قوانین منسوخ کیے جائیں۔ اس امر کا اظہار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طورپر منظور مشترکہ قرارداد میں کیا گیا ہے۔

مشترکہ قرارداد پاکستان کی تمام حکومت، اپوزیشن ، پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے تیار کی گئی۔ تمام رہنمائوں نے قرارداد پر دستخط کیے ہیں۔ بدھ کی شام چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا کوئی بھی اقدام کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتا۔ متفقہ قرارداد میں بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلقہ یکطرفہ اقدام کو مستر کردیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی کی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں ، لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بم حملے کی یہ ایوان سخت مذمت کرتا ہے۔

بھارت متازع علاقے کے بارے میں یکطرفہ طورپر کوئی قانون سازی نہیں کرسکتا، آبادیاتی حیثیت کوتبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت نے یہ اقدام مقبوضہ کشمیر کی عوام کو ہر قسم کے حقوق سے محروم کرنے کیلئے اٹھایا ہے جس کی کوئی عالمی قانون اجازت نہیں دیتا۔ آبادیاتی تبدیلی جنگی جرم ہے ، نسل کشی کے ذریعے جنیوا کنونشن کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور امن و سلامتی کودائو پر لگا دیا گیا ہے۔ حق خودارادیت کا عالمی قراردادوں کے ذریعے تحفظ کیا گیا ہے جس کے مطابق کشمیریوں سے آزادانہ رائے کے ذریعے ان کے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد مزید افواج کی تعیناتی پر پارلیمان اظہار تشویش کرتا ہے، کرفیو کی مذمت کرتا ہے،کشمیری لیڈروں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے انٹرنیٹ سمیت تمام رابطے منقطع کیے جانے پر پارلیمنٹ نے اظہار تشویش اور مذمت کی ہے۔

سیز فائر کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کلسٹر بم میں بچوں کی شہادت پر پارلیمنٹ نے اظہار تشویش کیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور فوج کسی بھی ممکنہ بھارتی مہم جوئی کے حوالے سے چوکس ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی ، سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ قرارداد میں مطالبات کیے گئے ہیں کہ کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔ جبری طورپر شہریوں کو اٹھائے جانے کو روکا جائے، تمام رابطے بحال کیے جائیں، سرچ آپریشن بند کیاجائے، شہری آزادیوں کا احترام کیا جائے اوربھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرے بصورت دیگر جنوبی ایشیاء کی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق رہے گا۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی مذمت کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ سے خصوصی کمیشن مقبوضہ کشمیر بجھوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرسے تمام سیاہ بھارتی قوانین بشمول پبلک سیفٹی ایکٹ منسوخ کیا جائے، او ائی سی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کے۔ قرارداد کو انتہائی بلند آواز میں ارکان پارلیمنٹ نے متفقہ طورپر منظور کرلیا، اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی بھی موجود تھے ۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس قرارداد کی منظوری کے بعد غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے۔