قطر ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی تیسری مرتبہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت کا سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو 29 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے قطر ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ شاہد خاقان عباسی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔

عدالت کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے ریمانڈ میں چودہ روز کی توسیع کی استدعا کی۔ شاہد خاقان عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب افسر جتنا چاہتے ہیں اتنا ریمانڈ دے دیں، ویسے دوران تفتیش جو سوال پوچھا جاتا ہے اس کا تو جواب دے دیتا ہوں مگر یہ تفتیش کے دوران مجھ سے متعلقہ دستاویز تک مانگ لیتے ہیں۔

جج محمد بشیر نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ 14 روز کا ریمانڈ دے رہا ہوں، کوشش کریں کہ تفتیش مکمل ہو جائے۔ عدالت نے شاہد خاقان عباسی کو 29 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ کمرہ عدالت میں شاہد خاقان عباسی نے پارٹی رہنماوں خواجہ آصف، مریم اورنگزیب اور مصدق ملک سے بھی ملاقات کی۔

احتساب عدالت کے باہر اعدالت سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کوشش کر رہا ہوں نیب کو ایل این جی کیس سمجھا دوں مزید مہلت مل گئی ہے، ویسے یہ تعلیم بالغاں کا کورس ہے۔ سابق وزیراعظم کے جسمانی ریمانڈ میں دوسری مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔ گرفتاری کے بعد ان کا 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا جس میں بعد میں 14 روز کی توسیع کر دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں