پاکستان: افغان سرحد کے نزدیک دھماکے میں قبائلی رہنما سمیت پانچ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خیبر پختونخوا کے علاقے دیر بالا کے ایک دور افتادہ علاقے میں اتوار کی شام بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ دیسی ساختہ بم سڑک پر نصب تھا اور اس کا نشانہ ایک مسافر پک اپ بنی جو شرینگل سے گماڈنڈ جا رہی تھی۔ یہ علاقہ ضلعی ہیڈکوارٹر سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ اسلئے اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم پولیس حکام اسے دہشت گردی کا واقعہ تصور کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں پانچ افراد کے مرنے اور پندرہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ایک روز قبل خیبر پختونخوا میں حال ہی میں ضم ہونے والے جنوبی وزیرستان میں بھی سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر بم حملے میں دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

پچھلے چند ہفتوں سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی بشمول گھات لگار کر قتل کی ورداتیں تواتر سے ہو رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں