.

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی کارروائی رکوانے کے لیے آئینی درخواست دائر

پاکستان بار کونسل کی درخواست میں صدر مملکت، وزیر اعظم، وفاق، وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے احتساب شہزاد اکبر اوردیگر فریق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اورسندھ ہائی کورٹ کے جج کے کے آغا کے خلاف حکومتی ریفرنسوں پر کارروائی رکوانے کے لیے عدالتِ عظمی میں ایک آئینی درخواست دائر کردی ہے۔

اس آئینی پٹیشن میں صدر مملکت،وزیراعظم،وفاق،وزیر اعظم کے معاون برائے احتساب شہزاد اکبر اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف دائر ریفرنس بند نیتی پر مبنی ہیں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی حکومت قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی کے لیے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھی۔

پاکستان بار کونسل نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں 26 اور بھی ریفرنس دائر ہیں، مگر پہلے سے موجود شکایات کو چھوڑ کر ان دونوں جج صاحبان کے خلاف ریفرنسز پر فوری کارروائی شروع کردی گئی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی عجلت میں سماعت کی جارہی ہے۔حکومتی حلقوں نے ریفرنس دائر ہونے سے پہلے ہی قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف من گھڑت خبریں افشا کرنا شروع کردی تھیں۔

’’ان کے خلاف دائر کردہ ریفرنس میں جن قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کا اطلاق بے نامی جائیدادوں پر ہوتا ہے جبکہ ریفرینسوں کی زد میں آنے والے ججوں کی جائیدادیں بے نامی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ اور بچوں کے نام پر ہیں۔‘‘

بار کونسل نے الزام عاید کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسی کے خلاف شکایت کنندہ وحید ڈوگر خفیہ طاقتوں کا آلہ کار ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے اوراس کو ریفرنس پر مزید کارروائی سے روک دیا جائے۔ درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل کی ریفرینسوں پرکارروائی کے طریق کار میں ترامیم کی بھی استدعا کی گئی ہے۔