.

پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیےاپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کرنے پر غور

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان کے راستے بھارت، افغان تجارت پر مکمل پابندی عاید کرنے کی تجویز بھی پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے بھارتی طیاروں کے لیےاپنے ملک کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کرنے پر غور کیا ہے۔منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں پاکستان کے راستے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت پر مکمل پابندی لگانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے اور اس کے قانونی پہلووں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ٹویٹر پر کابینہ کے اجلاس میں زیر غور آنے والے اہم امور کے بارے میں اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی طیاروں کے پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی کی بحالی اور اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان سمیت تمام وزراء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو فضائی حدود کی اجازت نہ دی جائے۔ تاہم بین الاقوامی قوانین اس حوالے سے آڑے آگئے ہیں۔

کابینہ نے آیندہ جمعہ کو یوم یک جہتی کشمیر منانے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے عالمی برادری سے کہا ہے کہ بھارت کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور وزراء کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آیندہ جمعہ کو عوامی مقامات پر عوام کے ساتھ مل کر کشمیریوں سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کریں، اس دن 12 سے ساڑھے 12بجے تک کشمیر یوں کے حق میں ریلیاں نکالی جائیں گی اور اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوگا۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال سے عالمی رہنماؤں کو آگاہ کرنے اور ان سے اپنے رابطوں کے بارے میں بتایا اور اس ضمن میں کابینہ کو اعتماد میں لیا ۔انھوں نے کشمیر پر حکومت پاکستان کی ترجیحات اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا ۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تصدیق کی کہ کابینہ میں حال ہی میں بھارتی وزیراعظم کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کا معاملہ زیر غور آیا ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ سمیت سب وزراء نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ نریندر مودی کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ کشمیرپر فوکل گروپ میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان مسلم لیگ ن اور سید نوید قمر نے پاکستان پیپلزپارٹی کی نمائندگی کی اورتنازع کشمیر پر حکومتی ترجیحات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہاکہ بھارت کی وجہ سے خطے کا امن خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔ اس لیے اب مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کو ’ڈومور‘ کرنا ہوگا۔