.

حج آپریشنزکا جائزہ اجلاس، عمران خان کا طریق ِمکہ پراجیکٹ پر سعودی عرب سے اظہارِ تشکر

وزیرِاعظم کی آیندہ قومی حج پالیسی کے بارے میں تجاویز ایک ماہ میں کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان کی آیندہ سال کی قومی حج پالیسی کے بارے میں تجاویز ایک ماہ میں کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انھیں حتمی شکل دی جا سکے۔ انھوں نے طریق مکہ ( روڈ ٹو مکہ) پراجیکٹ کے تحت پاکستانی حجاج کو سفری سہولت مہیا کرنے پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حج آپریشنز 2019کا جائزہ لیا گیا ۔ انھیں حج سے پہلے، حج کے دوران اور فریضہ حج کے بعدحجاج کرام کے لیے وزارت حج اور بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس سال پاکستان کا حج کوٹا دو لاکھ تھا ۔اس میں سے 1,23,316 حجاج کرام نے سرکاری اسکیم کے تحت حج کا فریضہ ادا کیا ہے اور 76,684 حجاج کرام نجی حج کمپنیوں کے ذریعے حجاز مقدس گئے تھے۔

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو حجاج کرام کو ایام حج کے دوران میں انتظامات کے حوالے سے پیش آنے والی بعض مشکلات سے آگاہ کیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ ان مشکلات سے فوری طور پر سعودی حکام کو مطلع کردیا گیا تھا اور اس پر سعودی حکام نے متعلقہ سعودی منتظمین کے خلاف فوری کارروائی کی تھی۔

اجلاس میں حج کے حوالے سے حکومتی پالیسی، حج کے انتظامات اور حجاج کرام کو مزید بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے وزیرِ اعظم کو تجاویز پیش کی گئیں۔انھوں نے ان کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انھیں ایک ماہ میں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ انھیں حتمی شکل دی جا سکے۔

عمران خان نے پاکستانی حجاج کرام کو طریق مکہ پراجیکٹ میں شامل کرنے پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ آیندہ سال پاکستان کے ہوائی اڈوں پر تمام حجاج کرام کو یہ سہولت مہیا کرنے اور ان کی پاکستان ہی میں امیگریشن کے لیے سعودی حکومت سے گزارش کریں گے۔