.

سعودی، اماراتی وزرائے خارجہ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات

خطے سمیت مسئلہ کشمیر کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم عمرا ن خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے ’جعلی فلیگ آپریشن‘ کر سکتا ہے۔ وزیراعظم سے سعودی عرب اور عرب امارات کے وزراء خارجہ عادل الجبیر اور عبداللہ بن زاید بن سلطان نے بدھ کے روز وزیر اعظم ہاوس میں ملاقات کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود تھے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اوریک طرفہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیاں فوری اٹھانے پر زور دیا اور کہا کہ بھارتی اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے جعلی فلیگ آپریشن کرسکتا ہے۔ بھارتی اقدام سے خطے کے امن اور سلامتی کوسنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ بھارت کو غیر قانونی اقدامات سے روکے۔

سعودی عرب اور یو اے ای کا اس سلسلے میں کردار اہم ہے جبکہ سعودی و اماراتی وزراء خارجہ نے کہا کہ وہ اپنی قیادت کی ہدایت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اور امارات نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی سٹرٹیجک اہمیت کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں وزراء خارجہ نے علاقائی امن اور استحکام میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔ دونوں وزراء خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے سمیت مسئلہ کشمیر کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیر خارجہ نے معزز مہمانوں کیساتھ ملاقات میں خطے میں سکیورٹی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارتی اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور یو این قراردادوں کے منافی ہیں۔

شاہ محمود نے پاکستان کے اہم دورے پر آئے سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ملاقات کی جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم ایشوز پر تفصیلی تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایک ماہ سے لاکھوں کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے۔ خوراک اور ادویات میسر نہیں، بھارتی اقدام کا مقصد کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ اس نے یک طرفہ اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی خصوص حیثیت تبدیل کی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید بن سلطان سے ملاقات کے بعد شاہ محموقریشی نے ذرائع ابلاغ کو اہم پیش رفت سے مطلع کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کو پاکستان غیر قانونی سمجھتا ہے پاکستان کا دوٹوک موقف ہے کہ بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے بھی منافی ہیں اور یو این چارٹر سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان نے اپنا موقف بڑاواضح طورپر پیش کیا۔ سعودی عرب اورعرب امارات کے وزراء خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات میں بھی موجود تھا اور بڑے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ جو وسوسہ اور ابہام تھا کہ سعودی عرب اور عرب امارات آج پاکستان کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دے رہے آج وہ ابہام دور ہوگیا ہے۔ میں ذہنی طورپر بالکل کلیئر ہوں کہ کوئی ابہام نہیں ہے۔ ماضی کی طرح وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے پوری صورتحال کو سمجھا ، جانا اور بالکل بتا دیا کہ پاکستان کے ساتھ جو ہمارے تعلقات ہیں وہ اورنوعیت کے ہیں یقیناً ان کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات ہیں لیکن آپ سے کوئی موازنہ نہیں کرسکتے جو پاکستان اور سعودی عرب کے اسٹرٹیجک تعلقات ہیں اس کی گہرائی اور افادیت اور قسم کی ہے۔

بقول شاہ محمود قریشی یہ بھی طے ہوا کہ نیو یارک کی سائیڈ لائن پر او آئی سی کے رابطہ گروپ سے ملاقات کی جائے گی۔ وزارتی سطح پر اس میں شرکت ہو گی میں نے ان سے درخواست کی کہ او آئی سی کا جو کردار ہے اسے ہم پہلے سے زیادہ نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان چاہنا ہے کہ او آئی سی اپنا کردارادا کرے اور ہم سوچ بچار کررہے ہیں کہ او آئی سی کی ہم ایک نشست کریں اس میں ہم ان کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے اس میں مجھے ان کی مکمل سپورٹ اور تائید آج حال ہوگی ہے یہ ایک اچھی پیش رفت ہے میں آج کی نشست کے بعد پہلے سے زیادہ مطمئن ہوں۔

میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ملک کے پاس سمٹ کی صدارت ہے اوردوسرے ملک کے پاس وزارتی سطح کی صدارت ہے اگر او آئی سی کی نشست ہوتی ہے تو ان کا کلیدی کردار ہوگا او آئی سی کی رائے عامہ ہموار کرنے میں انسانی ایشوز اجاگر کرنے میں ان کا کلیدی کردار ہوگا۔ ہمارا آپس میں اس پر بھی تبادلہ خیال ہوا کہ جنیوا ہیومن رائٹس کونسل میں بھی ہمارا رابطہ ہوا اوران کے مندوب پاکستان کے ساتھ تعاون کریں گے،اس سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اہم ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نور خان ایئربیس پر دونوں معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔ تینوں وزرائے خارجہ نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا اظہار کیا۔۔