.

سعودی اور اماراتی وزیر خارجہ کی ایک ساتھ پاکستان آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔

اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور امارتی ہم منصب عبداللہ بن زاید بن سلطان النہیان کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس دوران شاہ محمود قریشی نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔

بعد ازاں وزیر خارجہ کے ہمراہ سعودی وزیر عادل الجبیر اور اماراتی وزیر عبداللہ بن زاید بن سلطان دفتر خارجہ گئے، جہاں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت ہوئی۔

سعودی عرب اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 7 مارچ کو سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

مارچ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے کے لیے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر اہم دورے پر پاکستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پاکستانی رہنماؤں سے پاک بھارت کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔

واضح رہے کہ اماراتی وزیر خارجہ بھی ایسے وقت میں دورہ کر رہے ہیں جب خطے کی مجموعی صورتحال بھارت کی جانب سے 5 اگست کے اقدامات کے باعث کشیدہ ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

بھارت کو اس اقدام کے بعد نہ صرف دنیا بھر سے بلکہ خود بھارتی سیاست دانوں اور اپوزیشن جماعت کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ بھارت نے 5 اگست کے اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل ہی مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا دیا تھا جبکہ مواصلاتی نظام بھی منقطع کردیے تھے جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال معطل ہیں۔