.

پاکستان، کشمیر پر بھارت کو ’’ہر ممکن جواب‘‘ دے گا: عمران خان

فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کا جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں تو کیا بین الاقوامی برادری کی انسانیت مر چکی ہے۔

ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار پیغامات میں انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے فسطائیت اور ہندو بالادستی کے عزائم اور مقبوضہ کشمیر اور بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں کی نسل کشی کا ایجنڈا پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کے قوانین سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف وزیوں کا نوٹس لیاجائے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر خاموشی پر سوال اٹھایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت ہے 'بنیادی ضروریات کی فراہمی محدود ہو چکی ہے جبکہ مواصلاتی بندش سے کشمیریوں کی آواز کو بیرون دنیا اور ان کے خاندانوں تک پہنچنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔

عمران خان نے کہاکہ بھارتی فورسزنے محاصرے کے دوران پیلٹ گن سے کشمیری مردوں، خواتین اوربچوں کو شہیداورزخمی کردیا۔ انہوں نے کہاکہ مردوں کو گھروں سے دور لے جا کرمختلف بھارتی جیلوں میں قید کردیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر میں لگائے گئے کرفیو کا بتیسواں روز ہے، وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں تمام تر پابندیوں کے باوجود عالمی میڈیا حالات دکھا رہا ہے سوال کیا کہ دنیا مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم پر خاموش کیوں ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ مسلسل کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیرمیں خوراک اور دواؤں کی شدید قلت ہے، بھارتی فوج کشمیریوں کو پیلٹ گنزسے شہید اور زخمی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی کا فاشسٹ ایجنڈا دنیا پرآشکار ہو چکا، انیس سو اڑتیس میں میونخ کی طرح اب دنیا حالات سے بے خبر نہیں رہ سکتی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر سے لوگوں کو گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، مواصلاتی رابطے بند ہونے سے کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ مظلوم کشمیریوں پر بد ترین بھارتی مظالم کے باوجود دنیا کی خاموشی کروڑوں مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہی ہے؟

جی ایج کیو میں مرکزی تقریب

درایں اثنا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یومِ دفاع کے سلسلے میں راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں جمعہ کو علی الصبح منعقد ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آج آپ کو واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کشمیر، تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک اس کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہو جاتا۔

اپنے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیادوں میں شہدا کا لہو شامل ہے جنہوں نے بلا شبہ ایک عظیم جدو جہد کے بعد ہمارے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1947 سے لے کر خواہ وہ جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں سے لبیک کہا، دھرتی کے بیٹوں کا خون کل بھی پاکستان کی حفاظت کی ضمانت تھا اور آج بھی ہمارے جری سپوت وطنِ عزیز پر قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔

میں یہ بات یقین سے کہتا ہوں کہ جوانوں کی کامیابیاں کبھی رائیگاں نہیں گئیں اور نہ جائیں گی، حالیہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابیاں باقی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ آج کا کشمیر ہندوتوا کی پیروکار ہندوستانی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار بن چکا ہے، ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، کشمیری خون ارزاں ہوچکا اور جنت نظیر ظلم کی آگ میں جل رہا ہے۔ موجودہ ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت، تعصب، تنگ نظری اور طاقت کے زعم میں کشمیریوں کے حقوق پر جو حملہ کیا ہے وہ بلا شبہ ہمارے اور پوری عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔

مسلح فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان، کشمیریوں کو کبھی تنہا اور حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑے گا، پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

پاکستان ایک پر امن ملک ہے کشمیریوں پر ظلم ہمارے صبر کی آزمائش ہے، پاکستان کی بہادر عوام، افواج اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں، ہم آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک اپنا فرض ادا کریں گے اور اس کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔