.

پاکستان کے نامور لیگ سپنر عبدالقادر دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر تریسٹھ برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق عبدالقادر کو دِل کا دورہ پڑا، اُنہیں اسپتال کے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

مختصر حالات زندگی

عبد القادر پندرہ 1955 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز 14 دسمبر 1977 کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے کیا جب کہ اپنا آخری ٹیسٹ 6 دسمبر 1999 میں کھیلا۔

انہوں نے 67 ٹیسٹ اور 104 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ عبدالقادر کا شمار دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز اسپنرز میں ہوتا تھا، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 236 اور ون ڈے میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔

عبدالقادر وزیراعظم عمران خان کے بے تکلف دوستوں میں سے ایک تھے، گُگلی اور فلپرز ان کی اسپشلسٹی تھی اور دور جدید میں اس فن کو زندہ کرنے میں ان کی بولنگ نے اہم کردار ادا کیا۔

عبدالقادر چیف سلیکٹر بھی رہے اور لاہور میں کرکٹ اکیڈمی چلاتے تھے ان کے بیٹے عثمان قادر نے پاکستان انڈر 19ٹیم کی نمائندگی کی۔ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل ان کے داماد ہیں۔

’باؤ‘ کی رحلت سے دنیائے کرکٹ سوگوار

ماضی کے عظیم لیگ اسپنر اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر کرکٹ کے حلقوں میں ’باؤ‘ کے نام سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے کرکٹ کے حلقوں میں فضا سوگوار ہو گئی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان عبدلقادر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک عظیم کرکٹر سے محروم ہو گیا ہے۔

گگلی ماسٹر کے انتقال پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک عظیم سپورٹس مین سے محروم ہو گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم، معین خان، راشد لطیف، سرفراز احمد اور سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر بریٹ لی نے بھی عبدالقادر کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔