.

پاکستان کا کشمیرمیں ’نسل کشی ‘ پر انتباہ،بھارت سے جلد مذاکرات کا امکان مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور حالیہ اقدامات سے ’ نسل کشی‘ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

وہ منگل کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے اجلاس کے شرکاء کو بھارت کے زیر انتظام ریاست میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرے اور انھیں رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کا جلد کوئی امکان نہیں ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔

قبل ازیں گذشتہ روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنرمشعل بیشلیٹ نےانسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں مقبوضہ ریاست میں بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے کشمیریوں کے انسانی حقوق پر اثرات پر گہری تشویش لاحق ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے پانچ اگست کو متنازع ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت اور خود مختاری ختم کردی تھی اور ایک صدارتی آرڈی ننس کا نفاذ کیا تھا جس کے تحت اس ریاست میں بھارت کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جائیدادیں خرید کرسکتے ہیں۔ اہل کشمیر تب سے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ بھارتی حکام نے ان کے احتجاج کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے بھارت سے خاص طور پر اپیل کی کہ وہ مقبوضہ وادی میں جاری لاک ڈاؤن یا کرفیو میں نرمی کرے، لوگوں کی بنیادی شہری خدمات تک رسائی کو یقینی بنائے اور جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان کے خلاف کارروائی کے دوران میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔