.

حکومتی جماعت کے سکھ رہنما پاکستان میں عدم تحفظ کا شکار کیوں ہو گئے؟

شمالی مغربی صوبہ سےسابق رکن صوبائی اسمبلی اور اقلیتی رہنما بلدیو کمار نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خیبر پختونخواہ سے پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف [پی ٹی آئی] کی ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے اقلیتی رہنما بلدیو کمار نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق بلدیو کمار نے بھارتی شہر لدھیانا میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اقلیتیں اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے۔ اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور مجھے بھی دو سال کے لئے جیل میں بند کیا گیا تھا۔

سابق اقلیتی رکن اسمبلی کو اپنی ہی جماعت کے ایک اور سکھ رہنما سورن سنگھ کے قتل کے مقدمے میں ایک سال قبل شک کی بناء پر بری کیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کا رد عمل

پاکستان کی حکمران جماعت کے ایک رہنما شوکت یوسفزئی نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیو کمار کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی تھی اور وہ اب جہاں مرضی چاہیں رہ سکتے ہیں۔