.

جب تک میں نہ کہوں حد متارکہ کی طرف نہیں جانا: عمران خان

بزدل مودی جتنا ظلم کرلو کبھی کامیاب نہیں ہو گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو پیغام دیا ہے کہ جتنا مرضی ظلم کر لو، کبھی کامیاب نہیں ہو گے۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔

جلسہ سے وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اور وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے خطاب کیا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر ریلوے شیخ رشید، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان،علیم خان اور دیگر اہم شخصیات سٹیج پر موجود رہیں تاہم کسی نے جلسہ سے خطاب نہیں کیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ صرف کوئی بزدل انسان ہی انسانوں پر ایسا ظلم کرتا ہے جو آج کشمیریوں پر ہندوستان کی 9 لاکھ فوج کر رہی ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس میں بھی انسانیت ہوتی ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا، ایک دلیر انسان کبھی عورتوں اور بچوں پر یہ ظلم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں سینیٹرز نے صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے کہ کشمیر میں مداخلت کریں۔ میں بھی جنرل اسمبلی اجلاس میں اپنے کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا۔ ان کے لیے ایسے کھڑا ہوں گا کہ آج تک ان کے لیے کوئی اس طرح کھڑا نہیں ہوا ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپ کو فخر ہو گا کہ کشمیریوں کا سفیر کشمیریوں کے لیے کھڑا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جو لوگوں پر آپ ظلم کر رہے ہیں لوگ اس کے خلاف لڑیں گے۔ جب ظلم انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو ہر انسان فیصلہ کرتا ہے کہ ذلت کی زندگی سے موت اچھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی آپ انسانوں کو انتہا کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگر مجھے میرے گھر والوں کے ساتھ اس طرح بند کیا جاتا تو میں اس ظلم کے خلاف لڑتا۔ آپ ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ آپ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ یہاں ان کے لیے جگہ نہیں۔ آپ کشمیر میں مسلمان اکثریت کو 9 لاکھ فوجیوں کے ذریعے اقلیت میں تبدیل کریں گے، جو مودی کشمیر میں کر رہا ہے یہ مسلمانوں کو انتہا کی طرف دھکیل رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اپنی ایئر فورس کو بھارتی طیارہ گرانے پر مبارک باد دیتا ہوں، ہم نے ان کا پائلٹ واپس کر دیا، کیوں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم مذاکرات سے مسائل کا حل چاہتے ہیں، ہم نے پائلٹ واپس کیا تو انہوں نے اپنے لوگوں سے کہا کہ پاکستان نے ڈر کر پائلٹ واپس کیا، مودی کان کھول کر سن لو! ایمان والا آدمی موت سے نہیں ڈرتا، مودی غلط فہمی میں نہ رہنا، اس لیے پائلٹ واپس نہیں کیا کہ ہمیں تم سے ڈر تھا، اس لیے واپس کیا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ جو یہ لوگ کشمیر میں کر رہے ہیں۔ اس کا ردِعمل آئے گا۔ کشمیر کے لوگ کھڑے ہوں گے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں سے ردِعمل آئے گا۔ سوا ارب مسلمانوں میں سے ردِعمل آئے گا۔ پھر انہوں نے کہنا ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد آ رہے ہیں۔ مودی بار بار کہہ رہا ہوں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے آئے گا۔ یہ وہ قوم ہے جو آخری دم تک مقابلہ کرے گی۔

عمران خان نے جلسے کے شرکاء سے پوچھا کہ آپ لوگ لائن آف کنٹرول جانا چاہتے ہو، حاضرین نے کہا کہ ہاں ہم جانا چاہتے ہیں، جس پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ جب تک میں نہ بتاؤں لائن آف کنٹرول کی طرف نہیں جانا، میں بتاؤں گا کہ آپ نے کب جانا ہے، پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں، دنیا کے رہنماؤں کو کشمیر کی صورتِ حال بتانے دیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی! مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹاؤ اور تماشہ دیکھو، تم نے تو مظلوم کشمیریوں کو پابندِ سلاسل کردیا ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیرِ اعظم سے سوال کیا کہ نریندر مودی! کیا آج تم سری نگر میں اس طرح کشمیریوں سے خطاب کر سکتے ہو؟
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا آج آزاد کشمیر میں کوئی سیاسی قیدی ہے؟ مودی! تم نے کس قانون کے تحت ہمارے 4 ہزار کشمیریوں کو پابندِ سلاسل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا سوال کرتی ہے کہ کیا وجہ ہے آزاد کشمیر میں ٹی وی دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ٹیلی ویژن نشریات غائب ہے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دنیا دیکھے کہ آزاد کشمیر کے بازاروں میں چہل پہل ہے، یہاں پولیس کا کوئی پہرا نہیں ہے۔ انہوں نے نریندر مودی سے سوال کیا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارا مؤقف مقبول ہے تو مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج کیوں تعینات کی گئی ہے؟