.

سرچ انجن گوگل نے اپنا 'ڈوڈل' وحید مراد کے نام کر دیا

چاکلیٹی ہیرو کی سالگرہ پر گوگل کا مرحوم اداکارہ کو منفرد خراج عقیدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار وحید مراد کے مداح آج ( 02 اکتوبر) ان کی 81 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پرمعروف سرچ انجن ’گوگل‘ نے مرحوم اداکار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے مداحوں کے ساتھ ڈوڈل بھی شیئر کیا۔

کراچی میں پیدا ہونے والے وحید مراد کو 'چاکلیٹی ہیرو' اور 'لیڈی کلر' کے القاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وحید مراد نے ابتدائی تعلیم میری کلاسو اسکول سے حاصل کی بعد ازاں انہوں نے انگلش ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

وحید مراد نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1959 میں فلم ’’ساتھی‘‘ سے کیا۔ 1962 میں انہیں ایس ایم یوسف کی فلم ’’اولاد‘‘ میں ایک اہم رول کے لیے کاسٹ کیا گیا اس فلم نے گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کیا۔ وحید مراد کی شہرت میں فلم ’’ہیرا اور پتھر‘‘ سے مزید اضافہ ہوا۔ انہیں پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی فلم ’’ارمان‘‘ کے لیے بیک وقت فلم ساز، مصنف اور ہیرو ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

چاکلیٹی ہیرو نے’’ اولاد‘‘ سے لے کر’’ زلزلہ‘‘ تک کل 125 فلموں میں کام کیا اور ان کا ہر کردار جاندار رہا۔ ’’ اکیلے نہ جانا‘‘ سے لے کر دیگر گانوں نےانہیں لازوال شہرت دی۔ اُن کی پہلی فلم ’’اولاد‘‘ اورآخری ریلیز شدہ فلم ’’زلزلہ‘‘ تھی۔ انہوں نے ایک پشتو فلم ’’پختون پہ ولایت کے‘‘ میں بھی کام کیا، یہ اداکار آصف خان کی ذاتی فلم ’’کالا دھندا گورے لوگ ‘‘کا پشتو ورژن تھا۔

ستر کی دہائی میں ان کے پاس اپنی ساتھی اداکارہ کا انتخاب کرنے کی چوائس بہت کم رہ گئی تھی۔ اداکارہ زیبا کو ان کی شادی کے بعد محمد علی نے وحید مراد کے ساتھ کام کرنے سے منع کردیا تھا۔ بعدازاں اداکارہ شبنم کی بھی شادی ہوگئی اور ان کے شوہر نے بھی انہیں وحید مراد کے ساتھ کام کرنے سے منع کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اداکارہ نشو کو بھی وحید مراد کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں تھی اور یہی باتیں وحید مراد کو پستی کی طرف لے جانے کی وجہ بنیں۔ وحید مراد بیک وقت فلم ایکٹر، فلم پروڈیوسراوراسکرپٹ رائٹر بھی تھے۔ وحید مراد کی بہترین فلموں میں ’’ دل میرا دھڑکن تیری‘ ،’ہیرا اور پتھر‘ ،’ارمان‘ ،’عندلیب‘ ،’مستانہ ماہی‘، ’انسانیت‘ ،’دیور بھابھی‘ وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے بعد انہیں کم مقبول ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی طرف سے کاسٹ کیا جانے لگا۔ نومبر 2010 میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وحید مراد کو 'ستارہ امتیاز' سے نوازا،جب اداکار کو دنیا سے رخصت ہوئے 27 سال گزر چکے تھے۔وحید مراد نے اپنی 23 سالہ فلمی زندگی میں اعلیٰ کارکردگی کی بناء پرمجموعی طور پر 32 ایوارڈ حاصل کیے۔

وحید مراد نے اپنی زندگی کے آخری لمحات اپنی منہ بولی بہن ممتازایوب کے گھر کراچی میں گزارے اور یہیں وہ 23 نومبر 1983 کو خالق حقیقی سے جا ملے۔