.

طالبان وفد کی پاکستان میں سیاسی اور فوجی قیادت سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دورے پر آنے والے افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے عمائدین پر مشتمل وفد نے طالب رہنما ملا برادر کی قیادت میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق جمعرات کی دوپہر اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستانی کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوج کے محکمہ سراغرسانی کے ادارے ’’آئی ایس آئی‘‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔

گیارہ رکنی طالبان وفد میں ملا فاضل اخوند، محمد نبی عمری، عبدالحق و ثیق، خیر اللہ خیرخواہ، امیر خان متقی مطیع الحق خالص، عبدالسلام حنیفی، ضیا الرحمان مدنی، شہاب الدین دلاور اور سید رسول حلیم اس موقع پر موجود تھے۔

اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اعلی سطح کے اس وفد نے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفترِ خارجہ میں ملاقات کی تھی۔

دفتر خارجہ سے اس ملاقات کے بارے میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے سیاسی وفد کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر نے کی اور اس ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے افغانستان میں قیام امن کے لیے ’مذاکرات‘ ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور گذشتہ چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں ممالک یکساں طور پر بھگت رہے ہیں۔