.

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی العزیزیہ کیس میں منگل تک طبّی بنیاد پرضمانت منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہفتے کے روز پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرینس کیس میں آیندہ منگل تک طبّی بنیاد پر ضمانت منظور کرلی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی کی ضمانت کے لیے عدالت عالیہ اسلام آباد میں درخواست دائر کی تھی اور عدالت نے اس کو سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ان کی درخواست سماعت کی۔

قومی احتساب بیورو(نیب) کے چئیرمین نے سابق وزیراعظم کی درخواست ضمانت پر عدالت میں کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔اس پر عدالت نے اپنے حکم میں میاں نواز شریف کی رہائی کے لیے بیس، بیس لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

ایک روز قبل ہی عدالتِ عالیہ لاہور نے میاں نواز شریف کی چودھری شوگر ملز کیس میں بھی ضمانت منظور کر لی تھی۔اس فیصلے کی نقل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی گئی تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران میں ریمارکس دیے کہ طبی بنیاد پر یہ درخواست اس عدالت میں دائر نہیں کی جانی چاہیے تھی کیونکہ اس معاملے پر حکومت کو فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت میں میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے موکل کی صحت بگڑتی جارہی ہے لیکن اس معاملے کو ایک طویل عرصے سے سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے۔انھیں گذشتہ شب ہی دل کا ہلکا دورہ پڑا تھا۔انھوں نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے انھیں جان بوجھ کر جیل سے نکالا تھاحالانکہ ان سے وہیں تحقیقات کی جاسکتی تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ میاں نواز شریف کا علاج نہیں کیا گیا اور ان کے ڈاکٹر کو ان سے دور رکھا گیا ہے۔انھوں نے میاں نواز شریف کے بچّوں کے اس خدشے کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ ان کے والد کو زہر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان کے دلائل سننے کے بعد سیکریٹری داخلہ کو نصف گھنٹے میں نیب کے چئیرمین کا جواب داخل کرنے کے لیے وقت دیا تھا اور انھیں ہدایت کی کہ وہ ان سے پوچھ کر بتائیں کہ کیا وہ عدالت کے فیصلے کی مخالفت کریں گے یا ان کی جانب سے عدم اعتراض کا بیان حلفی داخل کریں۔

مختصر وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اگر حکومت درخواست ضمانت کی مخالفت کرے گی تو عدالت اس کو مسترد کردے گی لیکن اس دوران میں اگر میاں نواز شریف کو کچھ ہوجاتا ہے تو نیب اور حکومت دونوں اس کے ذمے دار ہوں گے اور عدالت پر کوئی ذمے داری نہیں ہوگی۔عدالت نے حکومت کو آیندہ منگل تک میاں نواز شریف کو تفصیلی میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

دریں اثناء لاہور میں ایک احتساب عدالت نے چودھری شوگر ملز کیس میں میاں نواز شریف کو ایک، ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہ نما سیف الملوک کھوکھر نے ان کی جانب سے ضمانتی مچلکے جمع کرائے ہیں۔واضح رہے کہ میاں نواز شریف گذشتہ سوموار سے سروسز اسپتال لاہور میں زیر علاج ہیں۔ان کی صحت اچانک بگڑنے کے بعد انھیں جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔