.

وزیراعظم کی خصوصی معاون برائےاطلاعات ونشریات فردوس عاشق کو توہینِ عدالت کا نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی خصوصی معاون برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کواعلیٰ عدلیہ پر تنقید کے الزام میں توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے اور انھیں جمعہ کو عدالت میں اصالتاً اپنا موقف پیش کرنے کے لیے طلب کیا ہے۔

انھیں اظہارِ وجوہ کا نوٹس توہین عدالت کے آرڈی ننس مجریہ 2003ء کی شق 3 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے لیے درخواست کی سماعت کے بارے میں بیان دے کر اسلام آباد ہائی کورٹ کی بے توقیری کی ہے۔اس میں انھوں نے کہا تھا کہ عدالت نے میاں نواز شریف کے خصوصی استنثائی سلوک کیا ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہدایت کی ہے کہ وہ یکم نومبر کو صبح نو بجے ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوکر وضاحت کریں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کے قانون کے تحت کارروائی شروع کی جائے۔

اس نوٹس میں خصوصی معاون برائے اطلاعات ونشریات کی ایک پریس کانفرنس کی جانب توجہ مرکوز کرائی گئی ہے،اس میں انھوں نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے حکم سے مختلف امراض کا شکار قیدیوں کی جانب سے اسی طرح کی درخواستیں دائر کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔

عدالت کے نوٹس میں اس پریس کانفرنس کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن اس میں ڈاکٹر فردوس عاشق کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے:’’آپ نے معزز عدالت کی بے توقیری کرتے ہوئے یہ تک کہا ہے کہ ملزم کے کیس کی شام کے وقت خصوصی طور پر سماعت کی گئی ہے۔آپ نے وزیراعظم کی خصوصی معاون اور وفاقی حکومت کی ترجمان کی حیثیت میں عدلیہ کے وقار کو عوام کی نظروں میں گرانے اور اسکینڈلائز کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’عدالتوں کے بارے میں آپ کی پریس کانفرنس کا مواد وزیراعظم کی خصوصی معاون اوربالخصوص وفاقی حکومت کی ترجمان کے منصب سےبالکل بھی لگا نہیں کھاتا۔ بادی النظر میں آپ کا فعل توہینِ عدالت کے آرڈی ننس مجریہ 2003ء کے تحت قانونی کارروائی کا متقاضی ہے۔‘‘

پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے 26اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی اوراس میں استدعا کی تھی کہ اس کی میاں نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر 29 اکتوبر سے پہلے سماعت کی جائے۔عدالت نے شام کے وقت اس درخواست کی سماعت کی تھی اور اس کے بعد طبی بنیاد پر العزیزیہ ریفرینس کیس میں میاں نوازشریف کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

اس کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’حکومت تمام زیرسماعت مقدمات کی اسی طرح تیز رفتار سماعت چاہتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس نئے رجحان کا تمام کیسوں پر اطلاق کیا جائے گا۔"انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں انتظامیہ سے ایک قیدی کی صحت کی ذمے داری قبول کرنے کا کہا گیا ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو میاں شہباز شریف ضمانت کے لیے دائرکردہ درخواست کی دوبارہ سماعت کی تھی اور العزیزیہ کیس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سنائی گئی سزا طبّی بنیاد پر آٹھ ہفتے کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا تھا اور بیس بیس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض سابق وزیراعظم کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے درخواست گزار کو یہ ہدایت کی تھی کہ اگر وہ ضمانت میں مزید توسیع چاہتے ہیں تو پھر اس مقصد کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کیا جائے۔