وزیراعظم عمران خان کوالالمپور سمٹ میں شریک نہیں ہوں گے

پاکستانی وزیراعظم نے ڈاکٹر مہاتیرمحمد کو ٹیلی فون پر گفتگو میں فیصلے سے آگاہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں بدھ کو شروع ہونے والے سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے اور انھوں نے میزبان ملک کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

ملائشیا کے وزیراعظم کے دفتر نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیرمحمد کو گذشتہ روز (16 دسمبر کو) عمران خان کی ایک فون کال موصول ہوئی تھی،انھوں نے سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے اور ان سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔

بیان کے مطابق ’’ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم عمران خان کی کال کو سراہا ہے جس میں انھوں نے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے اپنی عدم دستیابی کے بارے میں مطلع کیا ہے۔پاکستانی وزیراعظم اس اجلاس میں اسلامی دنیا کو درپش مسائل وچیلنجز کے بارے میں گفتگو کرنے والے تھے۔‘‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈاکٹر مہاتیر بعض غلط اطلاعات کی درستی بھی کرنا چاہتے ہیں۔جیسا کہ پاکستان میں آج یہ رپورٹ ہوا ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر کے بہ قول کوالالمپور سمٹ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا متبادل پلیٹ فارم ہوگی۔‘‘انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان سے کوئی بھی عہدہ دار 18 دسمبر بدھ کو کوالالمپور میں شروع ہونے والی اس سمٹ میں شرکت نہیں کرے گا۔

اس کانفرنس میں 52 ممالک سے تعلق رکھنے والے 400 سے زیادہ مسلم لیڈر ، دانشور ، اسکالر اور مفکرین شرکت کررہے ہیں۔19 دسمبر کو شریک ممالک کے سربراہان ریاست و حکومت کا اجلاس ہوگا اور اس میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سمٹ کی تجویز اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عمران خان ،ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان سہ فریقی ملاقات کے موقع پر پیش کی گئی تھی۔ اس نئے فورم کے قیام کے لیے ترک صدر ایردوآن اور ڈاکٹر مہاتیر محمد پیش پیش رہے ہیں۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم کے ملائشیا جانے کے بارے میں 18 دسمبر کو ان کی بحرین اور سوئٹزر لینڈ کے دورے سے واپسی کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔انھوں نے واضح کیا تھا کہ ’’قومی ترجیحات قومی بیانیے اور قومی مفاد سے جڑی ہوئی ہیں۔‘‘

تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے ابھی تک وزیراعظم کے دورے کی منسوخی کے بارے میں کوئی باضابطہ سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ بعض میڈیا ذرائع نے اپنے طور پر بعض قیاس آرائیاں کی ہیں اور انھوں نے یہ لکھا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ملائشیا نہ جانے کا فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گذشتہ اتوار کو ملاقات کے بعد کیا ہے اور انھوں نے کوالالمپور جانے کا اپنا ارادہ ترک کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں