پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے انھیں سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں تین ارکان پر مشتمل خصوصی عدالت نے یہ مختصر فیصلہ منگل کو سنایا۔

دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز نے حکومت میں آنے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا تھا۔

سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے چار سربراہان تبدیل ہوچکے ہیں لیکن یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔

ملزم پرویز مشرف صرف ایک مرتبہ ہی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سابق فوجی آج تک عدالت پیش نہیں ہوئے ہیں۔

سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ وکلاء صفائی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف صرف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور بعد ازاں وہ وردی میں ملک کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔ پرویز مشرف لگ بھگ 10 سال اقتدار میں رہے تھے۔ وہ ان دنوں علاج کی غرض سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔

سابق صدر نے تین نومبر 2007 کو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے آئین معطل کر دیا تھا۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کرنے پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

نومبر 2013 کو اس وقت کے چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری نے پرویز مشرف کے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالت تشکیل دینے کا حکم دیا۔

خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر سماعت کا آغاز کیا۔ لیکن سابق صدر بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر رہے۔

آخر کار 18 فروری 2014 کو پرویز مشرف عدالت کے رو برو پیش ہوئے۔ ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق آرمی چیف کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں چلنا چاہیے۔ تاہم خصوصی عدالت نے یہ اعتراض مسترد کر دیا۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت 20 نومبر 2013 کو قائم کی گئی تھی اور 31 مارچ 2014 کو عدالت نے مشرف پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

بعد ازاں 2016 میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالے جانے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

خصوصی عدالت نے 19 جون 2016 کو مسلسل غیر حاضری پر پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا تھا۔ مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا بینچ چھ مرتبہ ٹوٹا اور اس کی تشکیلِ نو ہوئی۔

خصوصی عدالت نے 19 نومبر 2019 کو پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 28 نومبر کو سنایا جانا تھا۔ تاہم پرویز مشرف کے وکلا کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو 26 نومبر کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا اور پانچ دسمبر تک نیا پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی حکم پر چار دسمبر کو علی ضیا باجوہ کو پراسیکیوٹر تعینات کیا گیا تھا اور پانچ دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے اُنہیں 17 دسمبر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ اسی روز فیصلہ بھی سنا دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں