.

پاک فوج کے ترجمان کی پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر کڑی تنقید

تحریری حکم میں انسانیت ، مذہب ،تہذیب اور دوسری اقدار کو بالکل تیاگ دیا گیا ہے: میجر جنرل آصف غفور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل آصف غفور نے سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے پاک فوج کے موقف کی وضاحت کی ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس سے مختصر خطاب میں کہا کہ فوج نے سابق فوجی حکمراں ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سزائے موت کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آج تفصیلی فیصلے کے بعد یہ تحفظات درست ثابت ہوگئے ہیں۔

خصوصی عدالت نے منگل کے روز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو آئین توڑنے پر سنگین غداری کیس میں تین مرتبہ پھانسی کا حکم دیا تھا۔عدالت نے آج جمعرات کو اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے اور اس میں سابق صدر کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں لٹکانے کا ذکر کیا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے اپنی نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’تحریری حکم میں جن الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے،ان میں انسانیت ، مذہب ،تہذیب اور دوسری اقدار کو بالکل تیاگ دیا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے حلف کے تحت ہمیشہ قومی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ہم نے ماضی میں قوم کی مدد سے اس کو ثابت کیا ہے۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ ’’ میں نے جنگ کی نوعیت اور انداز کے بارے میں بات کی ہے،ہمیں ایک ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے۔ہم جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت سے آگاہ ہیں۔‘‘

پھانسی کا حکم

منگل کے روز خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں قصور وار قرار دیا تھا اور انھیں دستورکو توڑنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی دینے کا حکم دیا تھا۔ان کے خلاف پاکستان کے آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔اس کے تحت جو کوئی بھی آئین کو توڑے یا اس کو سبوتاژ کرے گا،اس کی سزا موت ہو گی۔

پاکستان کی مسلح افواج نے خصوصی عدالت کے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس فیصلے میں قانونی عمل کو نظرانداز کیا گیا ہے۔اس فیصلے کے بعد آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواج پاکستان کی صفوں میں سخت غیظ وغضب ،درد اور اضطراب پایا جاتاہے۔

انھوں نے باور کرایا کہ ’’پرویز مشرف ملک کے صدر ،آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہے تھے۔انھوں نے 40 سال تک ملک کی خدمت کی ہے ،اس کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں،وہ یقینی طور پر غدار نہیں ہو سکتے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت نے بادی النظر میں پرویز مشرف کے کیس میں قانونی عمل کے تقاضے پورے نہیں کیے ہیں۔ان کی رائے میں اس مقدمے کی مخصوص انفرادی انداز میں سماعت کی گئی ہے اور اس کوعجلت میں نمٹایا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’سابق صدر کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔مسلح افواج یہ توقع کرتی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت انصاف کیا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق فوجی سربراہ کو ملک کا آئین توڑنے پر سنگین غداری کا مجرم قرار دیا گیا ہے لیکن پاک فوج کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے بھی پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کو ’’غیر منصفانہ ‘‘ قراردیا ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے فیصلے کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’اس کیس میں قانون کا دفاع کروں گا، کسی فرد کا نہیں۔‘‘حکومت نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ مجرم قرارپانے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف اس وقت دبئی میں مقیم ہیں۔انھیں اسی ماہ کے اوائل میں ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اسپتال داخل کیا گیا تھا۔ انھوں نے بدھ کی شب ایک ویڈیو پیغام میں مسلح افواج کے ردعمل پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ فوج اور پاکستان کے عوام نے قوم کے لیے ان کی خدمات کو یاد رکھا ہے۔

انھوں نے بسترِ علالت سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔انھوں نے کہا:’’ مجھے پاکستان کی عدلیہ پر پورا یقین ہے ۔ وہ مجھے انصاف دے گی اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھے گی۔‘‘