جسٹس گلزار احمد نے 27 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

حلف برداری تقریب ایوان صدرمیں منعقد ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حلف لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جسٹس گلزار احمد نے پاکستان کے 27 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس گلزار احمد سے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب حلف برداری ایوان صدرمیں منعقد ہوئی۔

تقریب کے آغاز میں ترانہ پیش کیا گیا اورقرآن پاک کی تلاوت کی گئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی تقریب حلف برداری میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ صدر پاکستان، وزیر اعظم عمران خان، سینئر جج صاحبان اور سینئر وکلا شامل تھے۔ جسٹس گلزار 27 ویں چیف جسٹس آف پاکستان بنے ہیں۔ وہ یکم فروری 2022 تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد پیر سے سپریم کورٹ اسلام آباد میں مقدمات کی سماعت کریں گے۔

جسٹس گلزار احمد کی عدالت میں سب سے پہلا مقدمہ چیف سیکرٹری پنجاب کا سنا جائے گا۔ کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کرے گا جبکہ جسٹس سید منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی، آئین کے تحفظ، آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔ ماضی میں بھی عدلیہ ان چیلنجز سے نمٹی ہے۔ آئین پاکستان ایک زندہ وجاوید دستاویز ہے۔ عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس گلزار احمد پاکستان کے 27 ویں چیف جسٹس بنے ہیں۔ وہ یکم فروری 2022 تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو کراچی کے نامور وکیل نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان سکول سے حاصل کرنے کے بعد نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

انھوں نے کراچی کے ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 18 جنوری 1986کو بطور وکیل اپنے کیرئر کا آغاز کیا۔ 4 اپریل 1988کو انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی، 1999 سے 2000 تک سندھ ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری جنرل رہے۔ 15 ستمبر 2001کو بطور وکیل سپریم کورٹ میں کام کا آغاز کیا۔

جسٹس گلزار احمد نے 27 اگست 2002 کو بطور جج سندھ ہائی کورٹ اپنے عہدے کا حلف لیا۔ 14 فروری 2011 کو سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج بنے اور 16نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور جج حلف اٹھایا۔ جسٹس گلزار احمد این ای ڈی یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد پاناما بینچ کا بھی حصہ تھے جس کے فیصلے کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ جسٹس گلزار احمد طلال چوہدری کو توہین عدالت کیس میں نااہل قرار دینے والے بنچ کا بھی حصہ تھے۔

نئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث پولیس افسران کو بھی سزا سنا چکے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کراچی اور اسلام آباد میں تجاوزات کے حوالے سے اہم فیصلے بھی سنائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں