سعودی عرب نے پاکستان پرملائشیا سمٹ سے’غیر حاضر‘رہنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا!

پاکستان نے کوالالمپور سربراہ اجلاس میں ’’وقت‘‘ کے پیش نظر شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا: ترجمان دفترِ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس نے پاکستان پر ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ مسلم ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کا عدم شرکت کا فیصلہ اپنا تھا اورا س نے ’’وقت ‘‘ کے پیش نظر ملائشیا سے معذرت کرلی تھی۔

ترجمان دفترخارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اہم مسلم ممالک کےاُمہ میں تقسیم سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے ابھی مزید وقت اور کوششوں کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے پاکستان نے کوالالمپور میں منعقدہ چار روزہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘

اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے بھی بعض میڈیا ذرائع سے نشر ہونے والی ان اطلاعات اور غلط خبروں کی تردید کی ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کوکوالالمپور سمٹ میں شرکت سے باز رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اورمعاشی پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔

سعودی سفارت خانے نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ’’مملکت سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تعلقات دھمکیوں کی زبان سے کہیں بالاتر ہیں۔ددونوں ملکوں کے درمیان اعتماد ، مفاہمت اور باہمی احترام پر مبنی دیرینہ اور تزویراتی برادرانہ تعلقات استوار ہیں اور بیشتر علاقائی اور عالمی امور بالخصوص اسلامی اُمہ کو درپیش مسائل کے بارے میں دونوں کے مؤقف میں مکمل یکسانیت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’سعودی عرب ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ہم ہمیشہ پاکستان کے ایک کامیاب اور مستحکم ملک کے طور پر ابھرنے کے لیے اس کے ساتھ کھڑا رہیں گے۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ اورسعودی سفارت خانے کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی ترک روزنامے صباح نے صدر رجب طیب ایردوآن کا یہ بیان نقل کیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں کے پیش نظر کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ترک چینل ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق صدر ایردوآن نے ترک میڈیا کے نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’ بدقسمتی سے ہم نے سعودی عرب کو پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہوئے دیکھا ہے۔اب اس ملک نے پاکستان کو اس کے مرکزی بنک سے متعلق کچھ وعدے کیے ہیں۔تاہم اس پر مستزاد یہ کہ سعودی عرب میں قریباً چالیس لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن کام کررہے ہیں۔انھوں (سعودی عرب) نے ان پاکستانیوں کو واپس بھیجنے اور ان کی جگہ بنگلہ دیشیوں کو بھرتی کرنے کی دھمکی دی تھی۔‘‘

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ’’سعودی عرب نے بنک دولت پاکستان میں منتقل کی گئی رقم کو واپس لینے کی بھی دھمکی دی تھی۔‘‘صدر ایردوآن کے بہ قول پاکستان کو اپنی اقتصادی مشکلات کے پیش نظر سعودی عرب کی خواہشات کو پورا کرنا پڑا ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے اس بیان پر براہ راست تو کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ البتہ یہ کہا ہے کہ ’’پاکستان اُمہ کے اتحاد اور یک جہتی کے لیے کام کرتا رہے گا اور یہ مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری اور ناگزیر ہے۔‘‘

کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کے لیے ملائشیا نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے تمام ستاون ممالک کو دعوت نامے جاری کیے تھے لیکن ان میں سے صرف بیس کے لگ بھگ ممالک نے اپنے مندوبین شرکت کے لیے بھیجے تھے اور ان میں سے بھی چند ایک کے سربراہان ریاست وحکومت نے کانفرنس کو رونق بخشی ہے۔

کوالالمپورمیں ہفتے کے روز اختتام پذیر ہونے والے مسلم اقوام کے اس سربراہ اجلاس میں پاکستان ،سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا نے شرکت نہیں کی ہے۔سفارت کاروں کے مطابق ان ممالک نے کوالالمپور سمٹ میں عدم شرکت کا فیصلہ علاقائی امور پر اختلافات کی بنا پر کیا تھا جبکہ پاکستان نے اپنی کسی مندوب کو کانفرنس میں شرکت کے لیے نہیں بھیجا تھا۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے گذشتہ منگل کو ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور ان سے گفتگو میں مملکت کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ مسلم اُمہ کے ایشوز پر صرف او آئی سی کے پلیٹ فارم ہی سے بات چیت کی جانا چاہیے کیونکہ او آئی سی نے اکثر مسلم ممالک کے اجتماعی مسائل وامور پر اجتماعی آواز کے طور کام کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں