عمران خان حکومت کا مریم نواز کا نام ای سی ایل سے حذف نہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل۔ن) کی نائب صدر مریم نواز کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا نام بدستور ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں موجود رہے گا۔

منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں ای سی ایل میں شامل یا خارج کیے جانے والے چوبیس کیسوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بعد میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ کابینہ نے چارناموں کو ای سی ایل میں شامل اور آٹھ ناموں کو اس فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آٹھ ناموں پر فیصلہ مؤخر کردیا گیا ہے جبکہ ایک نام حذف کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا ہے۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں مریم نواز شریف کا براہ راست نام نہیں لیا۔ جب ان سے صحافیوں نے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’’کابینہ نے متفقہ طور پر ایک بڑی اہم شخصیت ( وی آئی پی) کا نام خارج کرنے کے لیے درخواست کو مسترد کردیا ہے۔‘‘ان کا اشارہ مریم نواز شریف کی جانب تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ وفاقی کابینہ میں ملک بھر میں ایک ہی قانون کے نفاذ پر اتفاق کیا گیا ہے اور اس نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی ای سی ایل کے بارے میں سفارشات کی توثیق کی ہے۔‘‘اس کمیٹی نے مریم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی مخالفت کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں حکومت کی ترجمان نے کہا کہ کابینہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ عدالت عالیہ کی ’’واضح ہدایات‘‘ کی روشنی میں کیا تھا اور عدالت کے حکم پر کیا تھا۔

واضح رہے کہ مریم نواز شریف نے عدالت عالیہ میں دو مرتبہ اپنا نام ای سی ایل سے خارج کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔عدالت نے نو دسمبر کو اس درخواست کو نمٹاتے ہوئے وفاقی کابینہ کی جائزہ کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس پر سات روز میں فیصلہ کرے۔

تاہم حکومت نے عدالت عالیہ کے اس حکم پر مقررہ مہلت میں جب کوئی عمل نہیں کیا تھا تو مریم نواز نے اکیس دسمبر کو ہائی کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی تھی اور اس میں بھی اپنا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کی استدعا کی تھی تا کہ وہ بیرون ملک اپنے علیل والد کی عیادت کے لیے جاسکیں۔

اس درخواست پر عدالت نے وفاقی کابینہ کو کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا اور مزید سماعت چھبیس دسمبر تک ملتوی کردی تھی۔عدالت نے مریم نواز سے بھی کہا تھا کہ وہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کا انتظار کریں۔

یاد رہے کہ عدالتِ عالیہ لاہور نے چار نومبر کو پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر کی ضمانت منظور کر لی تھی اور ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔انھیں آٹھ اگست کو چودھری شوگرملز کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت نے مریم نواز کو جیل سے رہائی کے لیے ایک ، ایک کروڑ روپے کے دو ضمانتی مچلکے اور سات کروڑ روپےکی اضافی رقم جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔انھیں اپنے پاسپورٹ سے دستبرداری کا بھی حکم دیا تھا تاکہ وہ بیرون ملک نہ جاسکیں۔

مریم نواز نے 30 ستمبر کو بعد از گرفتاری ضمانت کے لیے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی ۔عدالت نے درخواست گزار اور نیب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 31 اکتوبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔مسلم لیگ کی نائب صدر کو اس کیس میں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انھوں نے اپنے والد میاں نواز شریف کی اچانک طبیعت بگڑ جانے کے بعد 24 اکتوبر کو بنیادی حقوق اور انسانی وجوہ کی بنا پر فوری ضمانت کے لیے متفرق درخواستیں دائر کی تھیں۔ 29 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے والد کو العزیزیہ کیس میں سنائی گئی سزا آٹھ ہفتے کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وہ علاج کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے اور اس وقت وہ لندن میں زیرِ علاج ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں