.

پی ٹی ایم کے لیڈر،رکن اسمبلی محسن داوڑاسلام آباد پریس کلب کے باہر سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد میں پولیس نے پشتون تحفظ تحریک ( پی ٹی ایم ) کے سرکردہ لیڈراور قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ کو نیشنل پریس کلب کے باہر سے گرفتار کر لیا ہے۔

محسن داوڑ ایک روز قبل پشاور میں پی ٹی ایم کے لیڈر منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ایک احتجاجی ریلی میں شریک تھے۔انھیں تھانہ کوہسار کی پولیس نے گرفتار کیا ہے۔اس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر ( ایس ایچ او) اخترعلی نے صحافیوں کو بتایاہے کہ ان کے علاوہ پی ٹی ایم کے تیرہ کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔احتجاجی ریلی میں پی ٹی ایم کے کارکنان اور حامیوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔قبل ازیں پی ٹی ایم کے ایک اور لیڈر رکن اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی بھی اطلاع سامنے آئی تھی لیکن پولیس نے انھیں حراست میں لینے کی تردید کی ہے۔

منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف میرعلی، ٹانک ، میرانشاہ اور ژوب میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ پشاور میں پی ٹی ایم کے کارکنان نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا اور منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

وفاق کے زیرانتظام سابق قبائلی علاقوں میں سرگرم پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین کو سوموار کے روز صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھااور انھیں ایک میجسٹریٹ کی عدالت کے حکم پر چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ پر پشاور کی سنٹرل جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔

آج انھیں پشاور کی مقامی سیشن عدالت کے حکم پر راہداری ریمانڈ پر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا ہےجہاں ان کے خلاف ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی اے) درج کی گئی تھی۔عدالت نے ان کی ضمانت کے لیے دائر درخواست خارج کردی تھی۔

پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان کے سٹی پولیس اسٹیشن میں 18 جنوری کو ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعات 153 اے ، 120 بی ،124 اور123-اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔یہ دفعات بالترتیب دوسروں کو جرائم پر اکسانے ،مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مجرمانہ سازش ، بغاوت اور ملک کے قیام کی مذمت اور اس کی خودمختاری کے خاتمے کی سازش کے جرائم سے متعلق ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق منظور پشتین اور پی ٹی ایم کے دوسرے لیڈروں نے 18 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اجتماع میں شرکت کی تھی اور اس میں پشتین نے مبیّنہ طور پر یہ کہا تھا کہ 1973ء کا آئین بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔نیز انھوں نے ریاست کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے۔

پولیس نے پی ٹی ایم کے نو اور کارکنان کو بھی گرفتارکیا تھا۔ ان کے نام محمد سلام ، عبدالحمید ، ادریس ، بلال ،محب ، سجاد الحسن ، ایمل ، فاروق اور محمد سلمان بتائے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں