.

عالمی امن مشنوں میں پاکستانیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا:انتونیو گوتیریس

پاکستان امن کے لیے اہم کردار اد کررہا ہے،حکومت کا امن و سلامتی کے لیے ویژن قابل قدر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے کہاہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ جوانوں نے امن مشنوں کے لیے کام کیا ہے،ان مشنوں میں خدمات کے دوران میں قربانیاں دینے والے پاکستانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

وہ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)کے مرکز برائے بین الاقوامی امن اور استحکام میں اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں پاکستان کے کردار پر سیمی نار سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے پاکستانی فورسز کو شاندارالفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ مجھے فخر ہے کہ میں امن مشنوں میں شامل جوانوں کاساتھی ہوں، نسٹ میں خطاب میرے لیے فخر ہے ،پاکستان امن کے لیے اہم کردارادا کررہا ہے۔ نسٹ کے طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی لیے بھی کام کررہے ہیں۔ میں تعلیم کے میدان میں ان کی کاوشوں کوخراج تحسین پیش کرتاہوں۔

انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پاکستان کے ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ جوانوں نے امن مشنوں کے لیے کام کیا ہے اور ان میں خدمات کے دوران میں 157 جوانوں نے شہادت پائی۔پاکستانی افسر عالمی ادارے کے تحت امن مشنوں میں فرسٹ کمانڈو کے طورپر کام کررہے ہیں۔امن مشنوں کے لیے پاکستانی افواج ، پولیس اور سویلین کا عزم شاندار ہے۔

انھوں نے کہا کہ 1948 سے اب تک پاکستانی 70 سے زیادہ امن مشنوں میں کام کرچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اقوام متحدہ کے تحت امن مشنوں کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔تنازعات کے حل کے لیے اقدامات میں مشکلات درپیش ہیں ۔ نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے جنگ کے طریق کارکوبدل دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ نے امن و سلامتی کے حوالے سے پیش رفت کی ہے۔اب امن مشنوں میں ناگہانی حادثات کی شرح کم ہوئی ہے۔

انھوں نے عالمی ادارے کے امن مشنوں میں پہلی مرتبہ پاکستانی خواتین کی شمولیت کو خوش آئند قراردیا۔ خطرناک علاقوں میں خواتین اہلکار عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے اہم کردارادا کررہی ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہاکہ امن مشنوں کا تشخص آج انتہائی مثبت ہوچکا ہے۔ پاکستانی حکومت کا امن و سلامتی کے لیے ویژن قابل قدر ہے۔پاکستان امن مشنوں کے حوالے سے بہترین مثال ہے۔

تصویری نمائش

سیمی نار کے موقع پراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستانی امن مشنز سے متعلق تصویری نمائش کا افتتاح بھی کیا۔اس نمائش میں پاکستان کی اقوام متحدہ کے ساتھ چھے عشروں پر محیط سفر کی تصویری کہانی بیان کی گئی ہے۔

پاکستان کے پہلے امن دستے کی کانگو میں 1960 میں تعیناتی نمائش کا حصہ ہے۔اس نمائش میں پاک فوج کے 1960 کے بعد 28 ممالک میں 46 امن مشنوں میں خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ نمائش امن مشنوں میں جان دینے والے 157 پاکستانی اہلکاروں کی قربانی کا ادراک ہے۔

سیکرٹری جنرل کا امن کے لیے ایکشن پروگرام بھی نمائش کا حصہ ہے۔تصویری نمائش میں مختلف امن مشنز میں 78 پاکستانی خواتین کی خدمات کو دکھایا گیاہے۔

ڈائریکٹر جنرل، ملٹری آپریشن میجر جنرل نعمان ذکریا نے کہاکہ پاکستان 18سال سے اقوام متحدہ امن مشنوں میں اپنے فوجی بھجوا رہا ہے۔ پاکستان عالمی امن مشنوں میں فوجی اہلکار بھجوانے والا چھٹا بڑا ملک ہے۔اس وقت دنیا کے نو ملکوں میں پاکستان کے چار ہزار 460 مردو خواتین اہلکار تعینات ہیں۔اقوام متحدہ عالمی مشنز میں نامزد اہلکاروں کو چار مختلف تربیتی کورس کرائے جاتے ہیں۔