.

کراچی : کیماڑی میں پُراسرار زہریلی گیس کا اخراج ،14 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس کے اخراج سے مرنے والوں کی تعداد چودہ ہوگئی ہے۔کیماڑی میں اتوار کو پہلی مرتبہ زہریلی گیس کے اخراج کی اطلاع سامنے آئی تھی۔اس کے بعد سے ہنوز یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ خطرناک گیس کہاں سے خارج ہورہی ہے۔

اس زہریلی گیس سے علاقے کے مکینوں کا نظام تنفس متاثر ہورہا ہے اور متاثرہ افراد کو اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔اس علاقے کے مکینوں نے کیماڑی کی جیکسن مارکیٹ میں اکٹھے ہو کر احتجاج کیا ہے اور حکام سے اس پُراسرار گیس کے اخراج سے ہونے والی ہلاکتوں کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی کے کمشنر افتخار شلوانی نے سندھ کی مقامی حکومت کے وزیر سیّد ناصر حسین شاہ کے ساتھ منگل کی سہ پہر ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اس زہریلی گیس کا اخراج کہاں سے ہوا تھا۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے مختلف پہلوؤں اور نظریات پر غور کیا جارہا ہے۔

کراچی کے ڈاکٹر ضیاء الدین اسپتال کے ترجمان عامر شہزاد نے بتایا ہے کہ گذشتہ دو روز میں اسپتال کے کیماڑی کیمپس میں زہریلی گیس سے متاثرہ نو افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں۔پولیس کے مطابق کوٹیانا اسپتال میں دو اموات ہوئی ہیں۔

صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے حکام نے سول اسپتال کراچی میں دو اموات اور برہانی اسپتال میں ایک ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ اس پُراسرار زہریلی گیس سے بیسیوں افراد متاثر ہوئے ہیں اور انھیں مختلف اسپتالوں میں داخل کیا جاچکا ہے۔ ان میں ڈھائی سو کے لگ بھگ افراد کو علاج کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ترجمان عامر شہزاد کے مطابق ڈاکٹر ضیاء الدین اسپتال میں قریباً ڈھائی سو مریضوں کا لایا جاچکا ہے۔ان میں صرف سوموار کو ایک سو افراد کو لایا گیا تھا۔ان میں پانچ مریضوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا ہے اور ان کی حالت اب بہتر ہورہی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے زہریلی گیس سے متاثرہ جن مریضوں کو لایا گیا ہے،انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے،چکر آرہے ہیں اور وہ قے کررہے ہیں۔

کیماڑی کے علاقے سے ستائیس مریضوں کو سوموار کی شب جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر لایا گیا تھا۔ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمیں جمالی نے بتایا ہے کہ ان میں ایک مریض کو دمے کے دورے پڑرہے ہیں اور اس کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔باقی مریضوں کو تین سے چار گھنٹے تک اسپتال میں رکھنے کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق کیماڑی میں واقع ریلوے کالونی میں موجود خام تیل ذخیرہ کرنے کے ٹینکوں سے زہریلی گیس کا اخراج ہوا تھا۔بعض نے ایک ٹینکر سے گیس کے اخراج کی اطلاع دی تھی لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور حکام اس کے منبع کے بارے میں جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔علاقے کے ایک مکین کا کہنا ہے کہ ہمیں ان ٹینکوں پر زیادہ شُبہ ہے اور حکام کو ان کا تفصیلی معائنہ کرنا چاہیے۔