.

ایران میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں، پاکستان نے تفتان سرحد عارضی طور پربند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے ایران کے ساتھ تفتان پر واقع اپنی سرحد عارضی طور پر بند کردی ہے۔اس نے یہ فیصلہ پڑوسی ملک میں مہلک کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافے کے بعد کیا ہے۔

صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تفتان پر واقع دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی گذرگاہ کو بند کرنے کی تصدیق کی ہے۔

صوبہ بلوچستان کی حکومت نے پاکستان سے شیعہ زائرین کے ایران جانے پر بھی پابندی عاید کردی ہے اور صوبائی وزارت داخلہ کو اس سلسلہ میں دوسرے صوبوں سے رابطے اور انھیں اس فیصلہ سے مطلع کرنے کی ہدایت ک ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال علیانی نے صوبائی مینجمنٹ اتھارٹی کو پاک ایران سرحد پر سو بستروں پر مشتمل خیمہ اسپتال قائم کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹا جاسکے۔

تفتان کے اسسٹنٹ کمشنر نجیب اللہ قنبرانی نے بتایا ہے کہ پاکستان ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے زائرین کی سکریننگ شروع کردی گئی ہے اور تفتان میں سو بستروں پر مشتمل نئے اسپتال کے قیام کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔اس سلسلہ میں اسلام آباد سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں پہنچ چکی ہے۔

چین سے پھیلنے والا مہلک کرونا وائرس ایران میں بھی وبائی شکل اختیار کررہا ہے اور اس سے ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔ایرانی حکومت نے اتوار کو مزید دو اموات کی تصدیق کی ہے۔ اس کے بعد کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے لیکن العربیہ کے ذرائع نے مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ بتائی ہے۔

ایران کے بین الاقوامی میڈیا کے ذرائع نے بھی ٹویٹر پر اپنے عربی صفحہ پر اٹھارہ ہلاکتوں ہی کی اطلاع دی ہے۔ واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ بدھ کو کرونا وائرس کے مریضوں کی پہلی مرتبہ اطلاع سامنے آئی تھی اور تہران کے جنوب میں واقع اہل تشیع کے لیے متبرک شہر قُم میں حکام نے دو ضعیف العمر افراد کی اس وائرس سے موت کی تصدیق کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ چین سے آنے والے بعض مسافروں سے اس شہر میں کرونا وائرس پھیلا ہے۔مشرقِ اوسط میں واقع کسی ملک میں کرونا وائرس سے یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔ایرانی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک کے چودہ صوبوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔قُم شہر میں اس فیصلے پر آج اتوار سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔