.

کرونا وائرس: پاکستان اورافغانستان کے درمیان چمن سرحد سوموارسے سات دن کے لیے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن پر واقع بین الاقوامی سرحد کو سوموار سے سات روز کے لیے بند کیا جارہا ہے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے ایک حکم نامے کے مطابق ’’چمن بارڈر کو اس کے دونوں جانب کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بند کیا جارہا ہے اور یہ فیصلہ دونوں برادرملکوں کے عوام کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے۔‘‘

اس نوٹی فکیشن کے مطابق ’’اس عرصہ کے دوران میں دونوں ملکوں کے عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان میں حکام نے اب تک چین سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کے چار کیسوں کی تصدیق کی ہے اور افغانستان نے ایک کیس کی تصدیق کی ہے۔پاکستان نے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تفتان سرحد پہلے ہی بند کردی ہے۔

حکومتِ پاکستان نے کرونا وائرس کے شکار مریضوں کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ’’انھیں افراتفری کا شکار ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ،چیزیں کنٹرول میں ہیں۔‘‘

پاکستان میں 26 فروری کو کروناوائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے 22 سالہ نوجوان نے پڑوسی ملک ایران کا سفر کیا تھا۔یہ مریض 20 فروری کو ایران سے بذریعہ طیارہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آیا تھا۔اس کے بعد اس کو اور اس کے خاندان کو الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔

صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے اس نوجوان کے دو مرتبہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے ہیں اور وہ دونوں مرتبہ مثبت آئے ہیں ۔البتہ اس کے خاندان کے افراد اور ساتھی مسافروں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔صوبہ سندھ کی حکومت نے حال ہی میں ایران کے سفر کرنے والے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فی الوقت اسکول نہ بھیجیں۔صوبائی حکومت نے سوموار سے 13مارچ تک تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس گذشتہ سال دسمبر میں چین کے وسطی شہر ووہان میں کھانے پینے کی اشیاء کی ایک مارکیٹ سے پھیلا تھا جہاں غیر قانونی طور پر جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت کیا جاتا تھا۔طبی ماہرین کا خیال ہے کہ اس وائرس نے پہلے پہل چمگادڑوں میں جنم لیا تھا۔ ان سے یہ کسی اور جاندار میں منتقل ہوا اور وہاں سے یہ انسانوں تک پہنچ گیا۔

اب تک چین سمیت دنیا بھرمیں اس وائرس سے کم سے کم تین ہزار افراد مارے جاچکے ہیں اور 87 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ان میں ساڑھے 42 ہزار مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔اس مہلک وائرس کے وبائی شکل اختیار کرنے کے بعد بہت سے ممالک نے چین کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کردی ہیں۔