پاکستان :ایک دن میں کرونا وائرس کے کیسوں میں چار گنااضافہ،کل تعداد 184 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان میں ایک دن میں مہلک وائرس کرونا کا شکار افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوگیا ہے اور سوموار کو حکام نے مزید ڈیڑھ سو کیسوں کی تصدیق کی ہے۔اس طرح اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 184 ہوگئی ہے۔

صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کا شکار افراد کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوگیا ہے اور ان کی تعداد ڈیڑھ سو ہوگئی ہے۔اس صوبے میں 26 فروری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔

سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مزید 47 کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔اس سے پہلے انھوں نے بتایا تھا کہ سکھر میں 65 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔یہ تمام افراد پاکستان اور ایران کے درمیان واقع سرحدی قصبے تفتان سے سکھر پہنچے تھے۔یہ افراد ایران سے لوٹے تھے اور انھیں تفتان میں طبی تنہائی میں رکھا گیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کے کل کیسوں میں 25 کا تعلق کراچی سے ہے اور ایک کا حیدرآباد سے ہے۔ترجمان نے اتوار کو سندھ میں کرونا وائرس کے 35 کیسوں کی تصدیق کی تھی۔

سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر صوبے میں تمام پارک اور تفریح گاہیں بند کردی ہیں جبکہ تعلیمی ادارے پہلے ہی 31 مئی تک بند کردیے گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک دن میں کرونا وائرس کے 15 کیس سامنے آئے ہیں۔صوبہ پنجاب میں اس مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو ہوگئی ہے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں حکام نے کرونا وائرس کے ایک نئے کیس تصدیق کی ہے۔ یہ شخص بھی تفتان بارڈر سے آیا ہے اور اس کو الگ تھگ رکھا گیا تھا۔اس کو مظفر گڑھ میں واقع انڈس اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

لاہور میں گذشتہ روز کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی گئی تھی۔اس 54 سالہ مریض کو ہفتے کی شب کرونا کی علامات ظاہر ہونے کے بعد میو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔یہ شخص 10مارچ کو برطانیہ سے لوٹا تھا۔اس سے رابطے میں رہنے والے تمام افراد کے بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں لیکن ان کے نتائج منفی آئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکام نے کرونا وائرس کے دو کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں 10اور گلگت، بلتستان میں کرونا وائرس کے پانچ مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی کے جمعہ کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس کا دو طرح کے افراد کا ٹیسٹ کیا جانا چاہیے۔اوّل، وہ لوگ جو بیرون ملک سے پاکستان لوٹے ہیں اور ان میں اس مہلک وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔دوم، ان لوگوں کا ٹیسٹ کیا جانا چاہیے جو خود تو بیرون ملک سے نہیں لوٹے لیکن ان کے رشتے دار یا قریبی جاننے والے لوگ واپس آئے ہیں اور وہ لوگ ان سے رابطے میں رہے ہیں اور ان میں بھی بعض علامات ظاہر ہوئی ہیں تو ان کا ٹیسٹ کیا جانا چاہیے۔

دریں اثناء سندھ کے وزیرتعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں نئے تعلیمی سال کا یکم جون سے آغاز ہوگا۔نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کا 15 جون سے آغاز ہوگااور یہ دو ہفتے تک جاری رہیں گے۔

صوبے کے ثانوی تعلیمی بورڈوں کے زیر اہتمام یہ امتحانات پہلے 16 مارچ سے شروع ہونا تھے لیکن یہ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ملتوی کردیے گئے ہیں۔انھوں نے کراچی میں ایک نیوز کانفرنس میں مزید بتایا ہے کہ گیارھویں اور بارھویں جماعت کے امتحانات 6 جولائی سے شروع ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں