.

آٹا اورچینی بحران:وفاقی کابینہ میں ردوبدل،وزیر خسرو بختیار،مشیر اور سیکرٹری خوراک فارغ

سیّد فخرامام قومی تحفظ خوراک اور اعظم سواتی پارلیمانی امور کے وزیر ہوں گے، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور چینی بحران کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹیں منظرعام پر آنے کے بعد سوموار کواپنی کابینہ میں ردوبدل کیا ہے۔ انھوں نے وفاقی وزیر خسرو بختیار، مشیر شہزاد اکبر اور سیکرٹری خوراک کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

وزیراعظم نے پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سیّد فخرامام کو وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک مقرر کیا ہے۔ان کے پیش رومخدوم خسروبختیار اب اقتصادی امور کے وفاقی وزیر ہوں گے اور ان کے پیش رو حماد اظہر کو وزارت صنعت کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

عمران خان نے سینیٹراعظم سواتی کو وفاقی انسداد منشیات کی وزارت کا قلم دان سونپا ہے۔وہ قبل ازیں پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر تھے۔سابق سینیٹر بابر اعوان کو پارلیمانی امور کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی سیکرٹری قومی تحفظ خوراک اور تحقیق ہاشم پوپلزئی کو ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ قمر حمید کو اس وزارت کا نیا وفاقی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان( ایم کیو ایم پی) سے تعلق رکھنے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی کا استعفا منظور کرلیاہے۔انھوں نے جنوری میں اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔ ان کی جگہ ایم کیو ایم ہی سے تعلق رکھنے والے امین الحق کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نیا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ میں اس ردوبدل سے دو روز قبل ہی وفاقی ادارہ تحقیقات ( ایف آئی اے) نے چینی اسکینڈل اور چینی کی صنعت پر دیے جانے والے زیر تلافی سے استفادہ کرنے والوں کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی۔چینی بحران سے فائدہ اٹھانے والوں میں خسرو بختیار اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اہم لیڈر جہانگیر ترین کے نام بھی شامل تھے۔

آٹے اور چینی کے اسکینڈل میں قومی خزانے سے رقوم اینٹھنے والوں میں حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے لیڈر مونس الٰہی اور ان کے رشتے داروں کے نام بھی آئے تھے۔

کابینہ میں رد وبدل کی اطلاع کے ساتھ ہی وزیراعظم ہاؤس کے ایک غیر سرکاری ترجمان شہباز گِل نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ جہانگیر ترین کو زراعت کے بارے میں ٹاسک فورس کے چئیرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن خود جہانگیر ترین نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کے تقرر کا تو کوئی نوٹی فیکیشن ہی جاری نہیں ہوا تھا جبکہ ماضی میں اس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے تھے۔

ایف آئی اے کی گندم بحران کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ میں نام آنے کے بعد صوبہ پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے استعفا دے دیا ہے۔انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے اور انھیں اپنا تحریری استعفا باضابطہ طورپر پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خودکوہر فورم پر احتساب کے لیے پیش کرنے کوتیار ہیں۔

دریں اثناء فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی کو ان کے عہدے سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ان کی جگہ ان لینڈ ریونیو سروس کی گریڈ22 کی افسر نوشین جاوید امجد کو محکمے کی نئی سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔شبر زیدی جنوری سے غیر معیّنہ مدت کے لیے طبی رخصت پر چلے گئے تھے اور اس وقت وہ کراچی میں زیر علاج ہیں۔