.

قومی فضائی کمپنی کے پائلٹس نے کرونا وائرس پر تحفظات کے باعث طیارے اڑانے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی ’’پی آئی اے‘‘ کے دو پائلٹس اور ایک ایئر ہوسٹس میں کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد پائلٹوں نے عراق میں محصور پاکستانیوں کو وطن واپس لانے سے انکار کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے دو پائلٹس اور ایک ایئر ہوسٹس میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد تحفظات دور نہ ہونے پر پی آئی اے کے پائلٹس کی نمائندہ تنظیم ’’پالپا‘‘ اور پی آئی اے انتظامیہ میں تناؤ برقرار ہے جس کے بعد عراق میں محصور پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے اسلام آباد سے بغداد روانہ ہونے والی پرواز پی کے 9813 پائلٹوں کے انکار کے باعث تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔

طے شدہ وقت کے مطابق پرواز کو منگل صبح 5 بجے مسافروں کو لانے کے لیے بغداد روانہ ہونا تھا۔ تاہم اب پرواز کی روانگی منگل دن 12 بجے تک تاخیر سے متوقع ہے۔

تقریباً 161 پاکستانی وطن آنے کے لیے عراق کے مختلف شہروں سے بغداد میں جمع ہوئے تھے۔ تاہم پی آئی اے حکام اور سی ای او پی آئی اے کی یقین دہانیوں اور حفاظتی سوٹ فراہم کرنے کے باوجود پائلٹ ڈیوٹی پر نہ پہنچے۔ سی ای او پی آئی اے نے ایک روز قبل پائلٹس اور عملے کو قومی ہیرو بھی قرار دیا تھا۔

پائلٹس کی نمائندہ تنظیم ’’پالپا‘‘ اور پی آئی اے انتظامیہ کے اختلافات کی ایک وجہ قومی فضائی کمپنی کی دو ماہ کے لیے تنخواہ کٹوتی کا معاملہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ پی آئی اے کے سی ای او ارشد ملک نے اپنی تنخواہ سے 20 فیصد کٹوتی کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں پی آئی اے کی تمام انتظامیہ نے بھی کٹ شدہ تن خواہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز کینیڈا سے وطن واپس آنے والی پی آئی اے کی پرواز کے 2 پائلٹس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد انہیں لاہور کے نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔