حکومتی ٹیم کرونا وائرس کے خلاف اقدامات پرسپریم کورٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام

عدالت عظمیٰ نے پنجاب میں بین الاضلاع سفر کے لیے کرونا سرٹیفکٹ کی شرط ختم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ناکافی انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کرونا وائرس از خود نوٹس کی سماعت کی تو اُس دوران عدالت نے حکومتی ٹیم اور اس کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی کابینہ غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ معاونین خصوصی کی فوج ہے جن کے پاس وزرا کے اختیارات ہیں۔ ان میں سے کئی کابینہ اراکین پر جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات ہیں۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا آج حکم دیں گے۔ جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ ظفر مراز کو عہدے سے ہٹانا تباہ کن ہو گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کس قسم کی ٹیم کرونا پر کام کر رہی ہے۔ ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہو گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا دوران سماعت کہنا تھا کہ کوئی ملک کرونا سے لڑنے کے لیے پیشگی تیار نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستی مشینری کو اجلاسوں کے علاوہ بھی کام کرنا ہوتے ہیں۔ معذرت کے ساتھ، لیکن وزیرِ اعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ کیا پارلیمنٹیرینز، پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے گھبرا رہے ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر چکے ہیں۔

دورانِ سماعت سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی ججز کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ عدالت نے صوبائی حکومت سے پیر کو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ عدالت نے کہا کہ کراچی میں 11 یونین کونسلز سیل کرنے کی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی۔ حکومت کو سیل شدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد کا بھی علم نہیں اور وہاں کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں۔

عدالت نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی افسوسناک ہے۔ صوبائی حکومت آٹھ ارب کا راشن تقسیم کرنے کے شواہد بھی نہ پیش کر سکی جب کہ صوبے بھر سے کھانا نہ ملنے کی شکایت پہنچ رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے راشن کہاں سے اور کتنے میں خریدا گیا، کتنا راشن کس کو دیا، تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ سندھ حکومت 'پی پی ای کٹس' کس نرخ پر خرید رہی ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ یہ کٹس مختلف نرخوں پر خریدی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مقامی سطح پر کرونا سے بچاؤ کی حفاظتی کٹس کی تیاری شروع ہو چکی ہے اور روزانہ پانچ ہزار کٹس تیار ہو رہی ہیں۔

درایں اثنا سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الاضلاع مشروط سفری پابندی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آرڈیننس 2020 کے ذریعے بین الاضلاع سفر پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حکم کے تحت یہ پابندی لگائی گئی؟ آرٹیکل 15 وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الاضلاع مشروط سفری پابندی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں