.

کرونا وائرس:عدالتِ عظمیٰ کا پاکستان بھر میں تمام شاپنگ مال اور مارکیٹیں کھولنے کا حکم

خریداری مراکز کو بند رکھنے کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ مارکیٹوں کو اختتام ہفتہ پر بند رکھنے کا کوئی جواز:چیف جسٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے چیف جسٹس ، جسٹس گلزار احمد نے ملک بھر میں شاپنگ مالوں کو کھولنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔انھوں نے کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے سے متعلق ازخود نوٹس سماعت کے دوران میں یہ ریمارکس دیے ہیں کہ شاپنگ مالوں کو بند رکھنے کا کوئی معقول جواز نظر نہیں آتا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی بینچ نے سوموار کو کرونا وائرس کے بحران کے تعلق سے ایک ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس مشیر عالم ، جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل ،جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس قاضی محمد امین احمد شامل تھے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری حکم میں کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب اور اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے شاپنگ مالوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے قومی صحت خدمات اور تحقیق مرکز( این ایچ ایس آر سی) سے رجوع کیا ہے اور انھیں آج یہ اجازت مل جائے گی۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’ اگر پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب یہ اقدام کرسکتا ہے تو پھر صوبہ سندھ ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔اس کے پاس ایسا نہ کرنے کا کوئی جواز یا وجہ نہیں ہے۔‘‘ اس میں سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھی این ایچ سی آر سی سے آج ہی اجازت کے لیے رجوع کرے۔

عدالت میں بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور گلگت ، بلتستان میں بھی مارکیٹیں اور دکانیں کھلی ہیں اور حکومت نے اس بات کی یقینی دہانی کرائی ہے کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کے معیاری طریق کار (ایس او پیز) کی پیروی کی جائے گی۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا ہے:’’ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اگر این ایچ ایس سی آر سی میں کوئی درخواست دائر کی جاتی ہے تو وہ آج ہی اس پر اپنا کوئی فیصلہ دے گا۔اگر اس کا یہ فیصلہ ہے کہ شاپنگ مالوں کو کھولنے کی اجازت ہے تو پھر متعلقہ صوبے کی حکومت کو اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔‘‘

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ’’ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں بند رکھنے کا کوئی قانونی اور آئینی جواز نہیں اور یہ دستور پاکستان کی دفعات 4 ، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔دنوں کے نام تو انسانوں کی سہولت کے لیے ہیں اور ان دونوں ایام میں کاروباری سرگرمیوں کو روکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ،اس لیے اس ضمن میں (سندھ) حکومت کے فیصلہ کو غیر قانونی قراردیا جاتا ہے۔‘‘

عدالت نے کراچی کے کمشنر افتخارشالوانی کو شہر میں دکانیں اور مارکیٹیں سر بہ مہر کرنے سے روک دیا ہے اور انھیں ہدایت کی ہے کہ وہ دکانیں بند کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور جن دکانوں کو بند کیا گیا ہے،انھیں کھول دیا جائے۔‘‘

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا ہے کہ وہ نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی پیش کردہ رپورٹ سے مطمئن نہیں اور اس کو ایسا کوئی جواز نہیں ملا کہ کرونا وائرس کی وبا پر اتنی زیادہ رقم کیوں صرف کی جارہی ہے۔‘‘عدالت نے کہا ہے کہ ملک میں اور بہت سے سنگین امراض موجود ہیں اور لوگ ان سے روزانہ مررہے ہیں لیکن ان کا علاج نہیں کیا جارہا ہے اور کرونا وائرس پر بھاری رقم صرف کی جارہی ہے جو پاکستان میں بظاہر ایک وبا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آج پاکستان میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 43158 ہوگئی ہے اور اب تک اس مہلک وَبا سے 923 اموات ہوچکی ہیں۔سب سے زیادہ کیس صوبہ سندھ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں،ان کی تعداد 17241 ہے،اس کے بعد سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں 15346 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہیں۔کل تشخیص شدہ کیسوں میں 11922 صحت یاب ہوچکے ہیں۔