.

پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار، عملے سمیت 97 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پاکستان کی ہرچم بردار قومی فضائی کمپنی ’’پی آئی اے‘‘ کے طیارے پی کے 8303 کو پیش آنے والے حادثے کے بعد لاشیں نکالنے کا کام مکمل کر لیا گیا جس کے بعد 97 ہلاکتوں کی تصدیق جبکہ 19 میتوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ جہاز میں 91 مسافر اور عملے کے 7 افراد سوار تھے

طیارے میں موجود دو افراد اس حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں اور اس وقت مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جائے حادثہ سے 97 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جس کے بعد 25 متاثرہ گھروں کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور رہائشیوں کو مقامی انتظامیہ کی مدد سے دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کا مسافر طیارہ لاہور سے کراچی آ رہا تھا کہ لینڈنگ سے کچھ ہی دیر قبل جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متصل علاقے ماڈل ٹاؤن کی رہائشی کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے سے کئی مکانات بھی تباہ ہوئے جس کے بعد علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔

حادثے کی شکار پرواز عید کی مناسبت سے خصوصی طور پر چلائی گئی تھی۔ پرواز نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری تھی اور اپنے مقررہ وقت پر کراچی پہنچ گئی تاہم لینڈنگ سے چند ہی لمحوں پہلے پرواز کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ طیارہ حادثے کی موصولہ فوٹیجز کے مطابق طیارے کو دو بج کر 25 منٹ 4 سیکنڈ پر حادثہ پیش آیا۔

میتوں کی شناخت

محکمہ صحت حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اب تک طیارہ حادثے میں جاں بھق ہونے والے 97 افراد میں سے صرف 19 کی میتوں کی شناخت کی جا سکی ہے۔ شناخت ہونے والوں میں آٹھ خواتین اور 11 مرد شامل ہیں۔ کراچی کے سول ہسپتال میں 31 جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں 66 لاشیں لائی گئی تھیں۔ مرنے والوں میں 68 مرد، 26 خواتین اور تین بچے شامل تھے۔ اب تک شناخت ہونے والی میتوں میں سے ایک طیارے کے پائلٹ سجاد گل کی ہے۔

اس کے علاوہ فوج میں حال ہی میں بھرتی ہونے والے لیفٹیننٹ بالاچ خان کی میت کی بھی شناخت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی میت ان کے گھر ولواں کے سپرد کر دی گئی تھی۔ ان کی نماز جنازہ آج بروز ہفتہ نماز عصر کے بعد ادا کی جائے گی۔

زندہ بچنے والے خوش قسمت مسافر

حادثے میں معجزانہ طور پر دو مسافر زندہ بچ گئے جنہیں سول اسپتال کراچی اور دارالصحت اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ محکمہ صحت سندھ کی ترجمان میران یوسف کے مطابق 25 سالہ جوان محمد زبیر اور بینک آف پنجاب کے صدر ظفر محمود خود قسمتی سے زندہ بچے ہیں جنہیں فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

ظفر محمود کو دارالصحت اسپتال جبکہ محمد زبیر کو ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی میں رکھا گیا ہے اور ان دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے جہاز حادثے میں بچنے والے بینک آف پنجاب کے صدر ظفر محمود سے نجی اسپتال میں عیادت کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الماس طاہر نامی خاتون جو سی ایم ایچ اسپتال میں داخل ہیں ان کے بارے میں گمان کیا جارہا تھا کہ وہ بھی طیارے میں سوار تھیں جو بچ گئیں تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ طیارے میں سوار نہیں تھیں بلکہ وہ ماڈل کالونی کی رہائشی ہیں جو طیارہ گرنے سے زخمی ہوئیں۔

’’طیارہ پرانا نہ تھا‘‘

ترجمان پی آئی اے کے مطابق طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی، طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کا ایمرجنسی کال سینٹر فعال کردیا گیا اور پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ہے جیسے جیسے معلومات ملتی جائیں گی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

ذرائع سول ایوی ایشن کے مطابق سول ایوی ایشن نے کراچی میں طیارہ حادثہ کے بعد فضائی آپریشن بند کردیا، پی آئی اے نے مختلف شہروں لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سے فضائی آپریشن روک دیا۔

پائلٹ کی ’مے ڈے‘ کال

ذرائع کے مطابق طیارہ فنی خرابی کا شکار ہوا اور لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے طیارے کے ٹائر نہیں کھل رہے تھے جب کہ طیارے کے پائلٹ نے ٹریفک کنٹرول کو ’مے ڈے‘ کال بھی دی تھی۔

پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونے کی اطلاع دی اور بعد ازاں ’مے ڈے‘ کال دی جس پر کنٹرول ٹاور سے بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں تاہم طیارے سے دوبارہ رابطہ نہ ہوسکا۔

تباہ ہونے والے طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے 7 ارکان سوار تھے۔ ذرائع کے مطابق طیارے کے کپتان کا نام سجاد گل ہے اور عملے میں عثمان اعظم ، فرید احمد، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان رفیق، عاصمہ اور انعم مقصود شامل ہیں۔

طیارہ حادثے کے مسافروں میں شوبز سے تعلق رکھنے والی معروف فیشن ماڈل زارا عابد اور نجی ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی شامل تھے۔

مدیحہ ارم نامی ائیرہوسٹس کو طیارے میں ڈیوٹی پر جانا تھا تاہم عین وقت پر ڈیوٹی روسٹر تبدیل کرکے مدیحہ ارم کو روک دیا گیا۔ مدیحہ ارم کی جگہ ائیرہوسٹس انعم مقصود کو طیارے میں بھیجا گیا اور انعم مقصود بدقسمت طیارے میں جاں بحق ہوگئیں۔

میڈیکل ایمرجنسی

حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موجود ہے، جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن میں لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آرمی کوئیک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ پہنچ گئے، آرمی کوئیک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ کے جوان موقع پر پہنچ گئے ہیں جو کہ امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں