.

دبئی سے وطن واپسی کے لیے آن لائن ٹکٹ بُک نہ کرائیں: پاکستانی قونصل جنرل کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سفارتی حکام نے دبئی میں مقیم اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ وطن واپسی کی پروازوں میں سوار ہونے کے لیے آن لائن ٹکٹ ہرگز بُک نہ کرائیں اور کسی کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ ان کے ساتھ فراڈیے اور دھوکے باز کوئی ہاتھ کر سکتے ہیں۔

دبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل احمد امجد علی نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ وہ اس میں دبئی اور متحدہ عرب امارات میں شامل شمالی امارتوں میں مقیم پاکستانیوں سے مخاطب ہوئے ہیں اور انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ پروازوں کے لیے آن لائن ٹکٹ بُک کرانے اور کسی کو رقم کی ادائی سے گریز کریں کیونکہ پاکستان جانے والی پروازوں کے ٹکٹ صرف قومی فضائی کمپنی کے کاؤنٹر ہی پر دستیاب ہیں۔

اس وقت یو اے ای میں کرونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہزاروں پاکستانی تارکین وطن اور سیاحوں کو دھوکا دینے کے لیے فراڈیے اور دھوکے باز افراد نئے نئے حربے آزما رہے ہیں اور اب انھوں نے آن لائن ٹکٹ بیچنا شروع کردیے ہیں۔

احمد امجد علی نے اپنے پیغام میں کہا’’ میں یہ بات اجاگر کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس ضمن میں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان میں یہ کہا گیا ہے کہ بعض فن کار اور فراڈیے قسم کے لوگ خود کو قونصل خانے کے اہلکار اور ٹریول ایجنٹ ظاہر کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے پاکستانیوں کو تاکید کی ہے کہ ’’ آن لائن رقوم ادا نہ کریں،جب قونصل خانہ آپ سے رابطہ کرے تو پھر پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے کاؤنٹر پر ذاتی طور پرتشریف لے جائیں اور وہاں ٹکٹ کی رقم ادا کریں۔اس ٹکٹ کی قیمت حکومت کی منظور شدہ ہوگی۔‘‘

’’ فراڈیے آپ (پاکستانیوں) سے یہ کہہ رہے ہیں کہ آن لائن رقوم کی منتقلی کریں لیکن مہربانی کرکے ہوشیار رہیے ،یہ لوگ آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں اور آپ کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں،ان لوگوں سے محتاط رہیے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا۔

دبئی میں بھارت کے قونصل جنرل نے بھی اسی ہفتے یو اے ای میں مقیم بھارتی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں جو خود کو واپسی کی پروازیں چلانے کے ذمے دار قرار دے رہے ہیں اور رقوم اینٹھ رہے ہیں۔

قونصل خانے نے گذشتہ اتوار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا تھا:’’ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ یو اے ای میں بعض لوگ اور ٹریول ایجنسیوں کے کارندے بھارتی شہریوں سے رابطے کررہے ہیں اور انھیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ بھارت میں مختلف مقامات کی جانب جانے والی واپسی کی چارٹرڈ پروازوں کا بندوبست کررہے ہیں۔بعض کیسوں میں انھوں نے لوگوں کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ کرائے اور بھارت میں قرنطین کے اخراجات کی مد میں انھیں پیشگی رقوم ادا کردیں۔‘‘