.

پاکستان:ایک دن میں کرونا وائرس سے 78 اموات، وفاقی وزیر شہریارآفریدی مہلک وَبا کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ 78 اموات اور 2961 نئے کیسوں کا اندراج کیا گیا ہے جبکہ وفاقی وزیر برائے ریاستیں ، سرحدی امور اور انسداد منشیات شہریارخان آفریدی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

انھوں نے خود ہفتے کے روز ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ ان کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور انھوں نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق گھر ہی میں خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ اس وقت مجھے دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے تمام ہم وطنوں کو میرے وزیراعظم کے زیرِ قیادت اس وبا سے محفوظ سے رکھے۔‘‘

ان سے قبل صوبہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر بھی کووِڈ-19 کا شکار ہوچکے ہیں لیکن اب وہ صحت یاب ہوگئے ہیں۔

مارچ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے وفاقی وزیر شہریار آفریدی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔سعید غنی نے اپنا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنے گھر میں خود کو الگ تھلگ کرلیا تھا اور وہ ہفتے عشرے ہی میں تن درست ہوگئے تھے۔

ایک دن میں سب سے زیادہ اموات اور کیس

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس میں مبتلا 78 افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں اور یہ ملک میں اس مہلک وَبا کے پھیلنے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ہفتے کے روز کرونا کے سب سے زیادہ 2961 نئے کیسوں کا اندراج کیا گیا ہے۔

اس طرح پاکستان میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی کل تعداد 69170 ہوگئی ہے اور اس مہلک وَبا سے 1441 اموات ہوچکی ہیں۔سب سے زیادہ کیس صوبہ سندھ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں،ان کی تعداد 27360 ہے،اس کے بعد سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں 24104 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ کل تشخیص شدہ کیسوں میں 24131 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صوبہ سندھ میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ 465 اموات ہوئی ہیں۔اس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں 445 افراد چل بسے ہیں۔ملک کا سب سے بڑے صوبہ پنجاب کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے اور وہاں 439 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں 46، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 23 ، گلگت ، بلتستان میں 9 اور پاکستان کے زیر انتظام ریاست آزاد جموں وکشمیر میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر کرونا وائرس کی منتقلی کی شرح 92 فی صد ہے اور لوگوں کے باہمی میل جول کی وجہ سے کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

انھوں نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ انھیں پیشگی حفاظتی اقدام کے تحت درج ذیل جگہوں ، مقامات میں جاتے یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے وقت چہرے پر ماسک ضرور پہننا چاہیے۔ان میں:
مساجد ، بازار ،دکانیں ، شاپنگ مال ، ٹرینوں ، بسوں اور طیاروں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ شامل ہے۔

انھوں نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ گھروں میں ماسک پہننے سے متعلق خود ہی فیصلہ کریں۔اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ایک گھر میں بہت زیادہ افراد موجود ہیں یا رہ رہے ہیں تو پھر انھیں ضرور ماسک پہننا چاہیے۔