.

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، وزیر ریلوے شیخ رشید کووِڈ-19 کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی خاتون ترجمان مریم اورنگ زیب نے سوموار کو اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شاہد خاقان عباسی کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور انھوں نے اس کے بعد اپنے گھر ہی میں خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے،ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں۔انھوں نے ملک میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی ہے کہ ان کا بھی کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان میں کووِڈ-19 کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں اور وہ صحت مند ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹروں کی سفارشات کی روشنی میں خود کو دو ہفتے کے لیے گھر میں الگ تھلگ کر لیا ہے۔

پی ایم ایل این کے سابق رکن قومی اسمبلی طارق فضل چودھری کا بھی کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔انھوں نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد اپنا ٹیسٹ کرایا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 26 فروری کو کرونا وائرس کے پہلے مریض کی تشخیص ہوئی تھی۔اس کے بعد اب تک اس مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 105640 ہو چکی ہے۔ان میں 2108 مریض وفات پاچکے ہیں۔ کووِڈ-19 کا شکار ہونے والوں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ارکان سمیت متعد سیاست دان شامل ہیں۔

ان میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر ،صوبہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی بھی اس مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے تھے لیکن اب یہ تینوں صحت یاب ہوچکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے لیڈر فیصل سبزواری ،ان کے والدین اور بیوی اور بیٹی کے کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔ان سے پہلے وفاقی وزیر شہریار آفریدی بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔انھوں نے تب سے سیاسی اور وزارتی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے۔متحدہ مجلس عمل کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید اور سینیٹر مرزا محمد آفریدی بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

کووِڈ-19 کے مرض میں مبتلا صوبہ بلوچستان کے سابق گورنر سید فضل آغا ، پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی کی رکن شاہین رضا ، صوبہ سندھ کے وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ ،جمعیت العلماء اسلام کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور پی ٹی آئی کے میاں جمشیدالدین کاکا خیل وفات پا چکے ہیں۔

بستروں کی قلّت

پاکستان میں حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد اسپتالوں میں بستر کم پڑ گئے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں واقع سرکاری اسپتالوں نے نوٹس چسپاں کردیے ہیں کہ ان کے ہاں اب مزید مریضوں کو رکھنے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔

ملک کے تاریخی شہر لاہور کے میو سمیت بڑے اسپتالوں میں تمام بستر اور وارڈ کرونا وائرس کے مریضوں سے بھر چکے ہیں اور دوسرے امراض میں مبتلا زیرعلاج مریضوں کو گھر بھیجا جارہا ہے۔نیز ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں اسپتالوں کا رُخ نہ کریں۔

سروسز اسپتال لاہور کے ایک ڈاکٹر فاروق ساحل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ '' کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافے کے بعد طبی عملہ کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی اس مہلک وبا کا شکار ہورہی ہے۔''

سب سے بڑے شہرکراچی میں بھی اسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کی بڑی تعداد داخل ہے،اس وقت ان کے بستر کم پڑ چکے ہیں اور نئے مریضوں کو چیک کیے یا داخلے کے بغیر ہی گھروں کو واپس بھیجا جارہا ہے۔انڈس اسپتال کے داخلی دروازے پر ایک بڑا بورڈ آویزاں کردیا گیا ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہے کہ کرونا کے مریضوں کے لیے کوئی بستر دستیاب نہیں ہے۔

اس دوران میں وزیراعظم عمران خان نے ایک نشری خطاب میں شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک پہن کر رکھیں،عملی زندگی میں حکومت کی رہ نما حفاظتی احتیاطی تدابیر اور معیاری طریق کار پر عمل درآمد کریں۔ ساتھ ہی انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آیندہ ماہ جولائی کے آخر میں وائرس اپنے عروج پر ہوگا اور اس کے بعد کیسوں کی تعداد میں بتدریج کمی واقع ہونا شروع ہوجائے گی۔