.

پی ایم ایل این کے صدراور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہبازشریف کرونا وائرس کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انھوں نے لاہور میں واقع اپنے گھر میں کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

پی ایم ایل این کے رہ نما عطاء اللہ تارڑ نے جمعرات کو میاں شہباز شریف کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں ان کی پیشی کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے سے دوچار ہوئی ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ نیب کو متعدد مرتبہ مطلع کیا گیا تھا کہ شہباز شریف کینسر کے مرض کا شکار رہے ہیں اور دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ان کی قوت مدافعت کم ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھاکہ ’’شہباز شریف صرف نیب میں پیشی کے لیے گھر سے باہر گئے تھے۔اس کے سوا وہ گھر سے باہر نہیں نکلے۔اب اگر انھیں کچھ ہوتا ہے تو (وزیراعظم) عمران نیازی اور نیب اس کے ذمے دار ہوں گے۔‘‘

پی ایم ایل این کے صدر منگل کے روز نیب میں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زیادہ اثاثوں سے متعلق کیسوں کی تحقیقات کے لیے پیش ہوئے تھے۔قبل ازیں اسی ماہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں ان ہی کیسوں میں ضمانت قبل از گرفتاری کے سلسلے میں پیش ہوئے تھے۔

انھوں نے صحت کی وجوہ کی بناپر تین مرتبہ نیب میں پیش ہونے سے انکار کیا تھا اور بیورو میں جمع کرائے گئے ایک بیان میں کہا تھا:’’میڈیا میں ایسی اطلاعات رپورٹ ہوئی ہیں کہ نیب کے بعض حکام کے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔‘‘انھوں نے کہا تھا کہ’’میری عمر 69 سال ہے اور میں کینسر کے عارضے میں مبتلا رہا ہوں ، میری قوتِ مدافعت کم ہے،اس لیے مجھے حاضری سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔ البتہ میں اسکائپ کے ذریعے کسی بھی سوال کا جواب دینے کو تیار ہوں۔‘‘

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے متعدد قائدین کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان میں رکن قومی اسمبلی اور جماعت کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال ، ترجمان مریم اورنگ زیب ،سابق وزیراعظم اور نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور سابق رکن قومی اسمبلی طارق فضل چودھری شامل ہیں۔

دریں اثناء حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کراچی کے صدر اور سندھ اسمبلی کے رکن خرم شیر زمان بھی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ پانچ روز سے گھر میں خود کو الگ تھلگ کیا ہوا تھا اور آج کووِڈ-19 کا ٹیسٹ کرایا ہے تو اس کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 26 فروری کو کرونا وائرس کے پہلے مریض کی تشخیص ہوئی تھی۔اس کے بعد اب تک اس مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 122580 ہو چکی ہے۔ان میں 2394 افراد وفات پاچکے ہیں۔ کووِڈ-19 کا شکار ہونے والوں میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ارکان سمیت متعد سیاست دان شامل ہیں۔

قبل ازیں سوموار کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ان میں کووِڈ-19 کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں اور وہ صحت مند ہیں مگرانھوں نے ڈاکٹروں کی سفارشات کی روشنی میں خود کو دو ہفتے کے لیے گھر میں الگ تھلگ کر لیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر ،صوبہ سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی بھی اس مہلک مرض میں مبتلا ہوئے تھے لیکن اب یہ تینوں صحت یاب ہوچکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے لیڈر فیصل سبزواری ،ان کے والدین، بیوی اور بیٹی کے کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔ان سے پہلے وفاقی وزیر شہریار آفریدی بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔انھوں نے تب سے سیاسی اور وزارتی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کررکھی ہے۔متحدہ مجلس عمل کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید اور سینیٹر مرزا محمد آفریدی بھی اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

کووِڈ-19 کے مرض میں مبتلا صوبہ بلوچستان کے سابق گورنر سیّد فضل آغا ، پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی کی رکن شاہین رضا ، صوبہ سندھ کے وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ ،جمعیت العلماء اسلام کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور پی ٹی آئی کے میاں جمشیدالدین کاکا خیل وفات پا چکے ہیں۔