.

سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن کا انتقال، نمازِ جنازہ کل ادا کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 78 برس تھی۔

وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کی نماز جنازہ سنیچرکو بعد نماز ظہر عیدگاہ گراؤنڈ ناظم آباد کراچی میں ادا کی جائے گی۔ ان کی تدفین سخی حسن قبرستان میں کی جائے گی۔

سید منور حسن جماعت اسلامی کے چوتھے امیر تھے۔ وہ 29 مارچ 2009 سے 29 مارچ 2014 تک جماعت اسلامی کے صدر رہے۔ انہوں نے نیشنل سٹوڈنٹس کے پلیٹ فارم سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور 1959 میں اس کے صدر رہے۔

وہ جون 1960 میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے اور 1963 میں کراچی کی تنظیم کے ناظم بنے۔ وہ 1967 میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔سید منور حسن پانچ اگست 1941 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان پہلے دہلی سے لاہور اور پھر کراچی آیا۔

انہوں نے 1977 کے انتخابات میں کراچی سے حصہ لیا اور پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

انہوں نے 1963 میں سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا جبکہ یونیورسٹی آف کراچی سے 1966 میں اسلامک سٹڈیز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

سید منور حسن 1992 میں جماعت کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور 1993 میں سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔
انہوں نے 2013 کے عام انتخابات میں بحیثیت امیر جماعت اسلامی کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفے کی پیش کش کی تاہم شوریٰ نے اسے قبول نہیں کیا۔

منور حسن نے 2014 میں امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے پانچ سال گزارنے کے بعد 2014 میں دوسری مدت کے لیے انتخاب میں حصہ لیا، تاہم وہ سراج الحق کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کی وفات پر ملک کی اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے بیان میں کہا کہ سید منور حسن کی قومی اور دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سید منور حسن خوش اخلاق مزاج کے مالک تھے اور ملکی سیاست میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔

ایک بیان میں مسلم لیگ ن کے صدر شباز شریف نے کہا کہ منور حسن کی مذہبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔