.

نوازشریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک برطرف

مریم نواز کی طرف سے دکھائی گئی جج کی مبینہ اعترافی ویڈیو اسکینڈل کا ڈراپ سین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کی سات رکنی انتظامی کمیٹی نے ویڈیو اسکینڈل کیس کا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز یفرنس میں سات سال قید کی سزا سنانے والے اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے سابق جج محمد ارشد ملک کو ملازمت سے برطرف کردیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے بطور انکوائری آفیسر جج ارشد ملک کو قصوروار قرار دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان کے علاوہ سینئر ترین جج جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی شامل ہیں۔

ویڈیو اسکینڈل سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے محمد ارشد ملک کو او ایس ڈی بنانے کے بعد معاملہ لاہور ہائی کورٹ کی انکوائری کمیٹی کے سپرد کیا تھا جس کے بعد انتظامی کمیٹی نے جسٹس سردار احمد نعیم کو انکوائری آفیسر مقرر کیا تھا اور ان سے سارے معاملہ کی ازسر نو تحقیقات کرنے کا کہا تھا۔ جسٹس سردار احمد نعیم نے جج محمد ارشد کا بیان بھی ریکارڈ کیا اور تحقیقات مکمل کرنے کے بعد محمد ارشد ملک کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے رپورٹ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو جمع کروادی تھی۔

جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں محمد ارشد ملک کو ذاتی صفائی کا موقع دیا گیا اور اس دوران محمد ارشد ملک نے اپنی بے گناہی کے حوالہ سے باتیں بھی کیں تاہم انتظامی کمیٹی کے ارکان نے ان کی تما م باتیں مسترد کر دیں اور انکوائری رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے جج ارشد ملک کو نوکری سے برطرف کرنے کی منظوری دے دی۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس 6 جولائی کو مریم نواز شریف نے صدر نواز لیگ میاں محمد شہباز شریف اور دیگر پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ کی جانے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران جج ارشد ملک کی مبینہ اعترافی ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انھیں بری کر دیا تھا۔

مسلم لیگ کا اظہار تشکر

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے سابق جج محمد ارشد ملک کی برطرفی کے لاہور ہائی کورٹ کے سات جج صاحبان کے فیصلے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالی کے حضور سربسجود ہوں کہ اس نے ملک وقوم کی مخلصانہ خدمت کرنے والے محمد نوازشریف کی بے گناہی کوثابت کر دیا۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا کہ جج نے انصاف پہ مبنی فیصلہ نہیں دیا تھا اور تین بار کے منتخب وزیراعظم کو ناحق سزا دی۔ سچائی سامنے آنے پر انصاف کا تقاضا ہے کہ محمد نوازشریف کے خلاف سزا کو ختم کیا جائے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کا فیصلہ دراصل محمد نوازشریف کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔ پارٹی کارکنان اور عوام سے اپیل ہے کہ محمد نوازشریف کی بے گناہی ثابت ہونے پر شکرانے کے نوافل ادا کریں۔