.

اسلام آباد سے دن دہاڑے اٹھائے گئے صحافی مطیع اللہ جان بازیاب،’محفوظ‘ گھر واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جبری اٹھائے گئے معروف صحافی مطیع اللہ جان کو ان کے اغوا کاروں نے چھوڑ دیا ہے۔ان کی بازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر صحافیوں نے بھرپور مہم چلائی تھی اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مطیع اللہ جان کو منگل کی شب اسلام آباد سے کوئی 70 کلومیٹر دور واقع فتح جنگ کے کچے کے ایک علاقے میں اغوا کاروں نے چھوڑا ہے اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہ خیریت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ بعض سرکاری ذرائع کے مطابق ان کی بازیابی ملک کی اعلیٰ شخصیات کی مداخلت سے ممکن ہوئی ہے لیکن فوری طور یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انھیں کس نے اغوا کیا تھا۔

قبل ازیں منگل کی صبح گیارہ بج کر دس منٹ پر اسلام آباد کے سیکٹر جی 6 میں واقع ایک سرکاری اسکول کے باہر سے بعض نامعلوم افراد نے مطیع اللہ جان کو زبردستی اٹھا لیا تھا۔وہ اس وقت وہاں اپنی اہلیہ کو لینے کے لیے گئے تھے اور اسکول کے مرکزی دروازے کے باہر اپنی گاڑی میں ان کا انتظار کررہے تھے۔ان کی اہلیہ کنیز صغریٰ اس سرکاری اسکول میں معلمہ ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں ایک بجے کے قریب اپنے خاوند کے لاپتا ہونے کا پتا چلا تھا۔انھیں گذشتہ چند روز سے نامعلوم نمبروں سے فون بھی آرہے تھے اور ان سے یہ کہا جارہا تھا کہ وہ عدالتِ عظمیٰ میں 22 جولائی کو پیشی کے وقت بعض معاملات پر خاموش رہیں۔واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے مطیع اللہ جان کی ایک ٹویٹ پر از خود نوٹس لیا تھا اور انھیں گذشتہ ہفتے توہین عدالت کے الزام میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اس اسکول کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی،اس میں واضح طور پر تین چار گاڑیوں کو اسکول کے باہر دیکھا جاسکتا ہے۔ان میں سوار مسلح افراد مبیّنہ طور پر مطیع اللہ جان کو زبردستی اپنے ساتھ بٹھا کر کسی نامعلوم مقام کی طرف لے گئے تھے۔انھیں اغوا کے کوئی بارہ گھنٹے کے بعد چھوڑا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے واقعے پر دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی اور حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس اطہر من اللہ نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر مطیع اللہ جان کا پتا نہیں چلتا تو وہ عدالت میں پیش ہوکراس واقعے کی تفصیل سے مطلع کریں۔

عدالت نے اپنے رجسٹرار دفتر کو خصوصی نمائندے کے ذریعے فریقین کو عدالتی نوٹس فوری طور پر بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔درخواست گزار کے مطابق مطیع اللہ جان کو دن دہاڑے اسلام آباد سے اغوا کیا گیا ہے اوریہ مبیّنہ طور پر جبری گمشدگی کا مقدمہ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قراردیا ہے کہ انتظامیہ پیش ہوکر بتائے کیوں نہ ایسے واقعات کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے؟عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست میں الزام ہے کہ مطیع اللہ جان دن دہاڑے اغوا ہوئے اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ہم ان کا اتا پتا لگانے اوران کی بازیابی کی کوشش کریں گے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے اور وہ اس کو پورا کرے گی۔

پاکستان بھر کے صحافیوں ، ملکی اور عالمی صحافتی تنظیموں ،ارباب اقتدار وسیاست اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے مطیع اللہ جان کو جبری لاپتا کرنے کے واقعے کی مذمت کی اور ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ، جسٹس گلزار احمد سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔