.

وزیراعظم عمران خان کا بزرگ کشمیری لیڈر سیّد علی گیلانی کو نشانِ پاکستان دینے کا اعلان

نریندرمودی نے 5 اگست 2019ء کو دفعہ 370اور 35اے ختم کر کے تاریخی غلطی کی: کشمیر اسمبلی سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم عمران خان نے14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر بزرگ کشمیری رہ نما سیّد علی گیلانی کو نشانِ پاکستان دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صرف کشمیریوں ہی کے نہیں بلکہ پاکستانیوں کے بھی رہ نما ہیں۔پوری دنیا میں ان جیسا کوئی لیڈر نہیں۔وہ ثابت قدمی سے بھارت کے ظلم وجبر کے خلاف اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

وہ بدھ کو مظفرآباد میں آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔اجلاس کی صدارت اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کی جبکہ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان بھی بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کے اقدامات سے بھارت بند گلی میں پھنس چکا ہے۔کشمیریوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ اگست 2019ء کو دستور کی دفعہ 370اور 35اے ختم کر کے تاریخی غلطی کی تھی، اب گر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو کشمیر آزاد ہے اور اگر کشمیریوں پر مزید ظلم کرے گا تو عالمی برادری اس کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ کشمیریوں نے مظالم برداشت کیے اور ثابت قدمی سے بھارت کے خلاف ڈٹے رہے،اب ظلم کے اس سیاہ دور کا اختتام ہورہا ہے۔ کشمیریوں کا مورال بلند ہے۔ میں انھیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ بھارت تکبر میں آگے بڑھ رہا تھا مگر کشمیریوں نے اس کا تکبر خاک میں ملا دیاہے اور اب جلد کشمیریوں کو آزادی ملے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے آٹھ لاکھ فوج کا مقابلہ کر کے بھارت کی تمام سازشوں کوناکام بنادیا ہے۔16ہزار کشمیریوں کو بھارت نے جیلوں میں بند کر کے سوچا کہ کشمیری ڈر جائیں گے اور وہ آر ایس ایس کے ذریعے کشمیریوں کو ڈرا کر انھیں ہاتھ کھڑا کرنے پر مجبور کردے گا مگر بھارت کو یہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے اجلاس کے شرکاء کو اپنی حکومت کے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے ضمن میں اپنی حکومت کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،جرمن چانسلر انجیلا مرکل،برطانوی اور یورپی حکام سمیت پوری دنیا کے رہ نماؤں کو کشمیر کی اصل صورت حال سے آگاہ کیا اور آر ایس ایس کا نازی چہرہ دکھایا۔ان میں کئی عالمی لیڈر تو ایسے تھے کہ انھیں کشمیر کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں تھا۔‘‘

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ ’’نیو یارک ٹائمز میں میرا مضمون نہیں چھاپ رہا تھا مگر میں نے وہاں جاکر اس امریکی اخبار کے ادارتی بورڈ سے میٹنگ کی اور انھیں بتایا کہ بھارت میں اس وقت نازی نظریے کے حکمران مسلط ہیں اور آر ایس ایس کا نظریہ ان کو بتایا ۔آج مغرب کے تمام اخبارات ہمارے مضامین چھاپ رہے ہیں اور ہر جگہ کشمیر کی بات ہورہی ہے۔

یومِ استحصال کے سلسلے میں منعقدہ قانون ساز اسمبلی اس خصوصی اجلاس سے وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر خان ،پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان،سابق وزراء اعظم سردار عتیق احمد خان،بیرسٹر سلطان محمود چودھری کے علاوہ جموں وکشمیر پیپلزپارٹی کے سربراہ سردار حسن ابراہیم نے بھی خطاب کیا۔

بھارت کے پانچ اگست کے اقدام کے ردعمل میں پاکستان میں یوم استحصال منایا گیا ہے اور ملک کے چھوٹے۔ بڑے شہریوں میں ریلیاں نکالی گئی ہیں۔کراچی میں جماعت اسلامی کی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے نکالی گئی ریلی پر دستی بم کے حملے میں تیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔